ہوئی تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا: ’’ اے حنظلہ! کیسے ہو؟ ‘‘ میں نے عرض کی: ’’ حنظلہ منافق ہوگیا۔ ‘‘ فرمایا: ’’ سُبْحَان اللہ! یہ کیا کہہ رہے ہو؟ ‘‘ میں نے عرض کی: ’’ ہم حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں ، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہم سے جنت و دوزخ کا ذکرتے ہیں تو اس وقت ہماری کیفیت ایسی ہوتی ہے گویاہم انہیں آنکھوں سے دیکھ رہے ہوتے ہیں ، پھر جب ہم آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کےپاس سے چلےجاتے ہیں تو بیویوں ، اولاد اور جائیداد میں مشغول ہوتے ہیں اور بہت کچھ بھول جاتے ہیں ۔ ‘‘ سَیِّدُنَا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا: ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم!ہماری بھی یہی حالت ہے۔ ‘‘ حضرت سَیِّدُنَا حنظلہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ پھر میں اور سَیِّدُنَا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے تومیں نے عرض کی: ’’ یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!حنظلہ منافق ہوگیا۔ ‘‘ فرمایا: ’’ وہ کیسے؟ ‘‘ میں نے عرض کی: ’’ جب ہم آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پاس ہوتےہیں آپ ہمیں جنت اور دوزخ کے بارے میں بیان فرماتے ہیں تو ہماری کیفیت ایسی ہوتی ہے گویا کہ ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہوں ، پھر جب ہم آپ کے پاس سے جاتے ہیں تو اپنی بیویوں ، اولاد اور جائیدادمیں مشغول ہو کر بہت کچھ بھول جاتے ہیں ۔ ‘‘ فرمایا: ’’ ا س ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے!تم ذکر و فکر کی جس کیفیت میں میرے پاس ہوتے ہو، اگر ہمیشہ اسی حالت پر رہو تو فرشتے تمہارے بستروں اور راستوں پر تم سے مصافحہ کریں ، لیکن اے حنظلہ! ایک ایک گھڑی ۔ ‘‘ یہ بات تین مرتبہ ارشاد فرمائی۔
مَحْفِلِ نَبَوِی کی برکتیں :
عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ حنظلہ منافق ہو گیا۔یعنی انہیں یہ خوف ہوا کہ وہ منافق ہو گئے ہیں کیونکہ سرکارِ دوعالَم نورِمُجَسَّم شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مجلس میں ان پر خوفِ خُدا کا غلبہ ہوتاتھااور اس کے ساتھ ساتھ ان پر مراقبہ، تفکر اورآخرت کی طرف توجہ کی کیفیت ظاہر ہوتی تھی اور جب آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مجلس سے جاتے تو گھر والوں ، بچوں اور معاش وغیرہ میں مشغول ہوجاتے تھےتو انہیں خوف ہوا کہ کہیں یہ نفاق تونہیں ۔پس حضور نبی رحمت شفیع اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے انھیں بتایا کہ یہ نفاق نہیں ہے اور انہیں ہمیشہ اس کیفیت پر رہنے کا مکلف