واَحباب کےحقوق متأثر ہوں گے۔اس لیے عبادت وریاضت میں ایساانہماک جس سے حقوقُ اللہ وحقوقُ العبادتلف ہوں بہت ہی غیر مناسب ہے۔اسی لیے حضور صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنےفرمایا:جس نے عمر بھر روزےرکھےاس نے روزے رکھےہی نہیں ۔صحیح طریقہ اور حضور صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمکی عام تعلیم یہ ہی ہے کہ عبادت نفلیہ میں اعتدال وتوازن ضروری ولازمی ہےاوراس کی صورت یہ ہےکہ ہر مہینہ تین روزےرکھےجائیں ساری عمرکےروزےرکھنےکاثواب ملےگا۔ایک نیکی کاثواب دس گنا ملتا ہے توہرمہینہ تین روزوں کاثواب پورے مہینہ کےروزوں کا ہوگا۔ واضح ہوصحابۂ کرام (عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان) کی ایک جماعت (جن میں امیر المومنین حضرت سَیِّدُنَا عمر فاروق اعظم و ابن عُمروطلحہ وابواُمامہ وجنابِ سَیِّدَہ عائشہ صدیقہ رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْنبھی ہیں ان تمام) نےمسلسل روزے رکھے ہیں مگر ان حضرات کی بات دوسری ہے، ان کاعبادت و ریاضت میں انہماک انہیں حقوق العبادات سے نہیں روکتاتھا لہذاممانعت عام لوگوں کےلیےقرار پائےگی خواص کےلیےنہیں ۔ ‘‘ (1)
مدنی گلدستہ
جَنَّتِ ’’ فردوس ‘‘ کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) نفلی عبادات میں میانہ روی کو اختیار کرنا چاہیے، ایسا اِنہماک کہ جس سے دیگر حقوق اللہ وحقوق العباد کی تلفی ہو ممنوع ہے۔
(2) ایسی قسم کھانا منع ہے جسے توڑے بغیرکوئی چارہ نہ ہو۔
(3) صومِ داؤدی صومِ دہر سے افضل ہے ۔
(4) مؤمن کفارسے مقابلہ کے وقت سیسہ پلائی ہو ئی دیوار کی طرح جم جاتا ہے پیٹھ پھیر کر بھاگنا مؤمن کی شان نہیں ۔
________________________________
1 - فیوض الباری،۸ / ۷۴،۷۳۔