Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
461 - 662
تھکاوٹ و مشقت دورکرتا ہے اور رنگ کی زردی وشکستگی کی صورت میں عبادت کااثرظاہرنہیں ہونے دیتا اور سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کافعل احوال واوقات کےتقاضوں کےمطابق مختلف ہوتاتھااوربے شمار حکمتوں اورمصلحتوں پرمبنی  ہوتاجوآپ کی ذات کریم اورآپ کی اُمَّت مرحومہ سےتعلق رکھتی ہیں کیونکہ آپ کی اُمَّت میں کمزور اورطاقتورہرقسم کےلوگ ہیں ۔ ‘‘  (1) 
حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکا حکیمانہ انداز:
شارح بخاری حضرت علامہ مولانا  سید  محمود  احمد رضوی  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’ مطلب یہ کہ نفلی عبادت انسان کی اپنی مرضی پرمنحصر ہے،  اللہ تعالٰی نےلازم وواجب نہیں فرمائی۔ مذکورہ بالااحادیث میں نفلی روزوں کےمتعلق حضورسیدعالَمصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم کاعمل وکرداراورآپ کی ہدایت کاخلاصہ یہ ہے، عباداتِ نفلی میں حضور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) نےاُمَّت کومیانہ روی کی تعلیم دی ہے۔نفلی روزوں اور نمازوں میں ایسےاِنہماک سےمنع فرمایاجس کی وجہ سےبندوں کےحقوق اورخوداپنی ذات کےحق مجروح ہوں یافرائض وواجبات کی ادائیگی میں کوتاہی ہو۔ حضرت عبد اللہ بن عَمروبن العاص  (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ)  پانچ ممنوعہ دنوں کےعلاوہ سال بھرمسلسل روزےرکھتےتھےاوررات میں عبادت وریاضت میں مشغول ہو جاتے نہ دن میں افطار کرتے اور نہ رات میں سوتے۔حضورصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنےانہیں ایسا کرنے سےمنع فرمایا اورنہایت حکیمانہ انداز میں انہیں بتایاکہ تم پرتمہارےجسم کابھی حق ہے۔جب مسلسل روزےرکھوگےتوکمزوری ہوگی اوراس انہماک سےخطرہ ہوگاکہ فرائض وواجبات کی ادائیگی میں خلل پیدا ہو۔ (فرمایا:تمہاری آنکھوں کابھی تم پر حق ہے) جب ساری رات شب بیداری میں گزار دو گے تو نگاہ کمزور ہوگی، جوانی میں نہ سہی آخری عمرمیں اس ریاضتِ شدیدہ سےتکلیف ہوگی۔ (فرمایا:تم پرتمہاری  بیوی  کابھی حق ہے) جب ساری رات عبادت میں اوردن روزےسے گزرے گا تو بیوی کےحقوق تلف ہوں گے، بچےتمہاری شفقت ومحبت اورتعلیم وتربیت سےمحروم رہ  جائیں گے۔ (فرمایا:تم پرتمہارے مہمان  کابھی حق ہے) جب رات دن عبادت وریاضت، صوم وصلوٰۃوتلاوت قرآن وذکرواَذکارمیں گزارو گے تو دوست



________________________________
1 -   اشعۃ اللمعات،کتاب الصلٰوۃ، باب التحریض علی قیام اللیل،۱‏ / ۵۵۹۔