Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
460 - 662
کرتے تھے مگر ان کے طریقے اور تھے۔حضرت داؤد عَلَیْہِ السَّلَام کا یہ طریقہ تھا جو یہاں مذکو رہے یعنی دو تہائی رات سوتے اور ایک تہائی رات جاگتے تھے اور اس جاگنے اور نماز کو دو نیندوں کے درمیان کرتے،  اب بھی یہی چاہیے۔اسی طرح نوافل تہجد اور نفلی روزوں کی محبوبیت کی چند وجوہ ہیں : (1) ایک یہ کہ اس میں روح کا حق بھی ادا ہوتا ہے اور نفس کا حق بھی، تمام رات سونے،  ہمیشہ افطار کرنے سے روح کا حق رہ گیااور رات بھر جاگنےہمیشہ  روزے میں نفس کا حق مارا گیا۔ (2) دوسرے یہ کہ اس طرح تہجدوروزے نفس پر بھاری ہیں ۔ لہٰذا  ربّ کو پیارے ہیں کیونکہ ہمیشہ  روزے رکھنے میں روزہ عادت بن کر آسان معلوم ہونے لگتا ہے مگر اس طرح ہر روزے میں نئی لذّت محسوس ہوتی ہے۔ (3) تیسرے یہ کہ اس میں جسمانی طاقت بحال رہتی ہے،  گھٹتی نہیں ۔ طاقت ہی سے ساری عبادتیں ہوتی ہیں ۔خیال رہےکہ ہمارےحضورصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے صرف تیرھویں ، چودھویں ، پندرھویں کےروزے رکھے۔کبھی یہ بھی کیا کچھ تاریخوں میں مسلسل روزے،  کچھ میں مسلسل افطار تا کہ اُمَّت پر آسانی ہو۔نیز حضورصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمابوالوقت ہیں ،  جو عمل کریں وہ افضل ہے۔رات کی ہر ساعت کو حضورصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کےنفل سے شرف حاصل ہوا اور مہینہ کی ہر تاریخ  کو حضورصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکے روزے سے عزت ملی۔ ‘‘  (1) 
ایک اِشکال اور اُس کاجواب:
شیخ عبدالحق محدث دہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی”اشعّۃ اللمعات “میں فرماتےہیں :   ’’ یہاں ایک اشکال ہے کہ حضور نبی رحمت شفیع اُمَّت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمحضرت داؤدعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامکےاس فعل پر دائماً عمل پیرا  نہ تھےتوپھریہ عمل اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کےنزدیک سب سےمحبوب عمل کیسےبن گیا؟  اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممحبوب ترین عمل کو کیسے ترک کرسکتےہیں ؟  اس کا جواب یہ ہے کہ فعلِ مذکور کامحبوب تر ہونا بعض اعتبارات سےہے،  ہرلحاظ سے نہیں ۔وہ بعض اعتبارات یہ ہیں :٭یہ عمل اِعتدال کےزیادہ قریب اورحفظِ صحت کےلحاظ سےزیادہ مفیدہے۔٭ایک  وجہ یہ بھی  ہےکہ رات کےآخری چھٹے حصے  میں سونا 



________________________________
1 -   مرآۃالمناجیح ،۲‏ / ۲۵۷۔