والے واقعہ کوغَزْوَهٔ ذَاتُ الرِّ قَاعکے موقع پر بتایا ہے مگر حق یہ ہے کہ تاریخِ نبوی میں اس قسم کے دو واقعات ہوئے ہیں ۔غَزْوَهٔ غطفانکے موقع پر سر ِانور کے اوپر تلوار اٹھانے والا دُعْثُوْربن حَارِث مُحَارِبیتھاجو مسلمان ہو کر اپنی قوم کے اسلام کا باعث بنااور غزوہ ذات الرقاعمیں جس شخص نے حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر تلوار اٹھائی تھی اس کا نام غَوْرَث تھا۔اس نے اسلام قبول نہیں کیا بلکہ مرتے وقت تک اپنے کفر پر اَڑا رہا۔ہاں البتہ اس نے یہ معاہدہ کر لیا تھا کہ وہ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے کبھی جنگ نہیں کرےگا۔وَاللہُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ (1)
مدنی گلدستہ
سَیِّدُنَا ’’ جبریل ‘‘ عَلَیْہِ السَّلَام کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے مدد طلب کرتے وقت تین مرتبہ ’’ اللہ ‘‘ کہنا مستحب ہے۔ (2)
(2) جانی دشمن پر قابو پانے کے باوجود اسے معاف کر دینا حلم وبرد باری کی اعلیٰ ترین مثال ہے ۔
(3) اللہ عَزَّ وَجَلَّ پر کامل بھروسہ کرنے والے کبھی مادی اشیاء سے خوفزدہ نہیں ہوتے ان کی نظر ہمیشہ اپنے ربِّ قدیر عَزَّ وَجَلَّ پر ہوتی ہے ۔
(4) انبیاء کرام عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام مخلوق میں سب سے زیادہ بہادر ہوتے ہیں اور ان کے اندر قوت برداشت بھی سب سے زیادہ ہوتی ہے ۔
(5) ہمارےپیارے آقا، حضور نبی کریم رؤف ورحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماپنےدشمنوں سے انتقام لینے کے بجائے انہیں معاف فرما دیا کرتےاورآپ کے اس حُسنِ سلوک سے متاثر ہو کر آپ کے جانی دشمن بھی دامن اسلام سے وابستہ ہوکر آپ کے جانثار بن جاتے تھے۔
________________________________
1 - سیرت مصطفی، ص۲۸۶۔
2 - مرقاۃ المفاتیح،کتاب الرقاق، باب التوکل والصبر،۹ / ۱۶۸، تحت الحدیث: ۵۳۰۴۔