داؤدی سے زیادہ روزے رکھناضرورت سے زائد ہے ۔جب سَیِّدُنَا عبداللہ بن عَمر و رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَانے کہا کہ میں اس سے افضل کی طاقت رکھتا ہو ں تو حضور نبی مکرم نورِمُجَسَّم شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےارشادفرمایا: ’’ اس سے افضل کوئی روزہ نہیں ۔ ‘‘ پس صومِ داؤدی ( ایک دن چھوڑ کر ایک دن نفلی روزہ رکھنا) صومِ دہر (یعنی مسلسل روزے رکھنے) سے افضل ہے۔اور صومِ داؤدی کو اس اعتبار سے بھی ترجیح حاصل ہے کہ مسلسل روزے رکھنے سے بعض حقوق فوت ہو جاتے ہیں اور اس وجہ سے بھی کہ جو اس کا عادی ہو اسے روزہ رکھنے میں مشقت نہیں ہوتی کیونکہ اس کی کھانے کی خواہش کم ہوجاتی ہے اور دن بھر کھانے پینے کی حاجت نہیں ہوتی اور وہ رات میں کھانا پسند کرتا ہے گویا کہ یہ چیز اس کی طبیعت میں شامل ہوجاتی ہے بر خلاف اس کے جوایک دن روزہ رکھتا ہے اورایک دن چھوڑتاہے کیونکہ اس کی طبیعت بدلتی رہتی ہے کہ ایک دن وہ روزے سے ہوتا ہے اور دوسرے دن بغیر روزے کے۔ ‘‘ (1)
صومِ دھرکے جائز ہونے کی شرط:
عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’ صومِ داؤدی سے افضل کوئی نفلی روزہ نہیں ۔ صو مِ دہر کے بارے میں اِختلاف ہے، اہل ظَوَاہِر کے نزدیک ممنوع ہےکیونکہ وہ اَحادیث کے ظاہر سے دلیل پکڑتے ہیں ۔جبکہ جمہور کے نزدیک صومِ دہر جائز ہے بشرطیکہ جن ایام میں روزہ رکھنا منع ہے ان میں روزہ نہ رکھے جیساکہ عِیدَین اور اَیَّامِ تشریق کے روزے ۔ امام شافعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی کے نزدیک صومِ دہر مُسْتَحَب ہے۔ ‘‘ (2)
صومِ داؤدی کی وُجُوہِ ترجیح:
مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتےہیں : ’’ یہاں (حدیث پاک میں ) نماز سے تہجد کی نماز مراد ہے اور روزے سے نفلی روزے۔ جیسا کہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دیگر انبیائے کرام (عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام) بھی تہجد اور نفلی روزے ادا
________________________________
1 - ارشاد الساری ،کتاب الصوم ، باب صوم الدهر ،۴ / ۶۱۷،تحت الحدیث: ۱۹۷۶۔
2 - عمدۃ القاری ،کتاب الصوم ، باب صوم الدهر ، ۸ / ۱۹۶، تحت الحدیث: ۱۹۷۶۔