Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
458 - 662
ناپسندیدہ عمل:
عَلَّامَہ حَافِظ اِبنِ حَجَر عَسْقَلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفر ماتے ہیں : ’’ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سَیِّدُنَا عبداللہ بن عَمرو بن عاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے فرمایا کہ تم اس کی طاقت نہ رکھ سکو گے۔ممکن ہے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ان کی موجوہ حالت دیکھ کریہ ارشاد  فرمایا ہو،  کیونکہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجانتے تھے کہ  وہ اس  طرح  مشکل میں پڑجائیں گے اوراپنے آپ کو مشقت میں ڈالیں گےاور اُن سے اِس سےزیادہ اہم چیزیں چھوٹ جائیں گی۔ اور یہ بھی احتمال ہے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےاُن کے بڑھاپے کے بعد کی زندگی کا اعتبار کیاہو کہ جب بڑھاپے  کو پہنچیں  گے  تو  اس عبادت سے عاجز آجائیں گے اور یہ  ناپسندیدہ عمل  ہے کہ کوئی شخص کسی عبادت کو اپنے اوپر لازم کرے پھر عاجز آکر اسے چھوڑ دے۔ ‘‘  (1)  
سَیِّدُنَاداؤد عَلَیْہِ السَّلَام کی جرأت مندی :
حَافِظْ قَاضِی اَبُو الْفَضْل عِیَاضرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : ’’ حضرت داؤدعَلَیْہِ السَّلَام دشمن سے مقابلے کے وقت  پیچھے نہ ہٹتے تھے۔یہ فرمان  اس بات پر تنبیہ ہےکہ آپ  عَلَیْہِ السَّلَام کی   طرح  روزہ رکھنے والا دشمن کےمدمقابل آنے میں ضُعف محسوس نہیں  کرتاکیونکہ وہ ایک دن کاروزہ نہ رکھ کر دوسرے  دن  کے روزے پر قوت حاصل کرتا ہے،  اسی وجہ سےفرمایاکہ حضرت داؤد عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام لوگوں میں زیادہ عبادت گزارتھےکہ آپ اپنی طاقت وقوت کی بناپرجنگ سےراہِ فرار اختیارنہیں کرتےتھے۔ ‘‘  (2) 
 صومِ داؤدی صومِ دہر سے افضل ہے:
عَلَّامَہ اَبُو الْعَباس  شَھَابُ الدِّیْن اَحْمَد قَسْطلانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں : ’’ صومِ داؤوی روزوں میں افضل ہے۔یہ  صومِ داؤدی کے مطلقاً افضل ہونے پر دلالت کرتا ہے اور اس کا مقتضیٰ یہ ہے کہ صومِ 



________________________________
1 -   فتح الباری ،کتاب الصوم ، باب صوم الدهر ،۵‏ / ۱۹۲،تحت الحدیث: ۱۹۷۶۔
2 -   اکمال المعلم ،کتاب الصیام ، باب النھی عن صوم الدهر ،۴‏ / ۱۲۶،تحت الحدیث: ۱۱۵۹۔