اللہ عَزَّ وَجَلَّ کےاس فرمان کی وجہ سے: ( یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكَۚ- ) ( پ۲۸، التحریم:۱) ترجمہ ٔ کنزالایمان: ’’ اے غیب بتانے والے (نبی) تم اپنے اوپر کیوں حرام کیے لیتے ہو وہ چیز جو ﷲنے تمہارے لیے حلال کی۔ ‘‘ اور اسی طر ح جس نے قسم کھائی کہ وہ نکاح نہیں کرے گا اس پر لازم ہے کہ وہ نکاح کرے، اسی طرح وہ تمام جائز کا م جن کے نہ کرنے کی قسم کھالی ہو، ان کاموں کو بجا لائے اور قسم کا کفارہ دے۔اس حدیث میں اس بات کا بھی ذکر ہے کہ عبادت میں غُلُو کرنا اور نفس کو مشقت میں ڈالنا مکروہ ہےکیونکہ عبادت میں غُلُو اور جہاد بالنفس کو اپنے اوپر لازم کرنے سے بُرائی سے بچنا مشکل ہوتاہے۔ خاص طور پر روزے جیسی عبادت کہ یہ جسم کو کمزور کرتاہے اسی لیے اللہ عَزَّ وَجَلَّنے سفر میں روزہ نہ رکھنے کی رخصت عنایت فرمائی ہے کیونکہ سفر کی مشقت کی وجہ سے کمزوری آجاتی ہے۔ ‘‘ (1)
بعض قسموں کا پوراکرنا ضروری ہے:
دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 616صفحات پر مشتمل کتاب ’’ نیکی کی دعوت ‘‘ صفحہ ۱۷۶ پر ہے: ’’ ٭بعض قسمیں ایسی ہیں کہ اُن کا پورا کرنا ضَروری ہے، مَثَلًا کسی ایسے کام کے کرنے کی قسم کھائی جس کابِغیر قسم (بھی) کرنا ضَروری تھا یا گناہ سے بچنے کی قسم کھائی (کہ گنا ہ سے بچنے کی قسم نہ بھی کھائیں ، تب بھی گناہ سے بچنا ضَروری ہی ہے) تو اس صورت میں قسم سچّی کرنا ضَرورہے۔مَثَلًا (کہا) خدا کی قسم ظُہرپڑھوں گا یا چوری یا زِنا نہ کروں گا۔٭ (قسم کی) دوسری (قِسم) وہ کہ اُس کا توڑنا ضَروری ہے مَثَلًا گناہ کرنے یا فرائض و واجِبات (پورے) نہ کرنے کی قسم کھائی، جیسے قسم کھائی کہ نَماز نہ پڑھوں گا یا چوری کروں گا یا ماں باپ سے کلام (یعنی بات چیت) نہ کروں گا تو قسم توڑ دے۔٭تیسری وہ کہ اُس کا توڑنا مُستَحب ہے مَثَلًا ایسے اَمر (یعنی مُعاملے یاکام) کی قسم کھائی کہ اُس کے غیر (یعنی علاوہ) میں بہتری ہے تو ایسی قسم کو توڑ کروہ کرے جو بہتر ہے۔٭چوتھی وہ کہ مُباح کی قسم کھائی یعنی (جس کا) کرنا اور نہ کرنا دونوں یکساں ہے اس میں قسم کا باقی رکھنا افضل ہے۔ ‘‘ (2)
________________________________
1 - شرح بخاری لابن بطال ،کتاب الصیام ، باب صوم الدهر ،۴ / ۱۲۱۔
2 - المبسوط للسرخسی،۴ / ۱۳۳، الجزء الثامن۔