کی۔آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُقرآن کا وہ ساتواں حصہ جورات کو پڑھنا ہوتا، دن میں اہل خانہ میں سے کسی کو سنادیتے تاکہ رات کو پڑھنا آسان ہوجائے اور جب قوت حاصل کرنا چاہتے تو کئی کئی دن روزہ نہ رکھتے لیکن ان دنوں کو شمار کرتے اور پھر اتنے دن روزے رکھتے۔ وہ اس بات کو ناپسند کرتے تھے کہ اس عمل کو چھوڑ دیں جس عمل کے ساتھ انہوں نے رسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے ملاقات کی تھی۔
( امام نووی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں :) یہ تمام روایات صحیح ہیں ، اکثر روایات بخاری ومسلم میں ہیں جب کہ کچھ روایات ان میں سے صرف ایک میں ہیں ۔
عبادات میں میانہ روی کی ترغیب:
مذکورہ تمام روایات میں حضرت سَیِّدُنَا عبد اللہ بن عَمرو بن عاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کی عبادت میں اپنے اوپر سختی کا بیان ہے، نیز ان روایات میں اس بات کا بھی بیان ہے کہ جب ان کی عبادت میں سختی کے بارے میں حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو خبر دی گئی تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے نفلی عبادات میں میانہ روی اختیار کرنے کی ترغیب دلائی۔ یہ باب بھی چونکہ عبادات میں میانہ روی کے بارے میں ہے اسی لیے علامہ نووی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے یہ تمام روایات اس باب میں بیان فرمائیں ۔
کونسی قسم توڑ دینی چاہیے؟
مذکورہ روایات میں اس بات کا بیان ہے کہ حضرت سَیِّدُنَا عبداللہ بن عَمرو بن عاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اس بات پر قسم کھائی کہ جب تک میں زندہ رہوں گا، دن کوروزہ رکھوں گااور رات کوقیام (یعنی نوافل کی ادائیگی) کروں گا۔ عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ ذیالْجَلَالفرماتے ہیں : ’’ ایسے کام کی قسم ممنوع ہے جس کی طاقت نہ ہواور قسم توڑےبغیردوسری راہ اختیار کرنابھی ممکن نہ ہوجیساکہ حضورنبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سَیِّدُنَا عبداللہ بن عَمرو رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو ساری زندگی کے روزے رکھنے اور رات بھر عبادت کرنے کی قسم سے منع فرمایا۔اسی طرح اگر کسی شخص نے قسم کھائی کہ وہ شادی نہیں کرے گا اور نہ کچھ کھائے گا، نہ پئے گا تواہل علم حضرات کے نزدیک یہ قسم پوری کرنا لازم نہیں ۔