فرمایا: ’’ پھر بیس دنوں میں پورا پڑھ لیاکرو۔ ‘‘ میں نےعرض کی: ’’ مجھے اس سے زیادہ کی طاقت ہے۔ ‘‘ فرمایا: ’’ دس دنوں میں ختم کر لیا کرو۔ ‘‘ میں نےعرض کی: ’’ مجھے اس سے زیادہ کی طاقت ہے۔ ‘‘ فرمایا: ’’ سات دنوں میں ختم کرواور اس پر اضافہ نہ کرو ۔ ‘‘ حضرت سَیِّدُنَا عبداللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں : ’’ میں نے خود پر سختی کی تو مجھ پر سختی کی گئی اور مجھ سے حضورنبی اکرم شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایاتھاکہ ’’ تم نہیں جانتے، شاید تمہاری عمر طویل ہو جائے۔ ‘‘ فرماتے ہیں : ’’ پس میں اس عمر کو پہنچ گیا جس کے بارے میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایاتھا۔جب مجھے بڑھاپا آیاتو میں نے چاہا کہ کاش میں نے حضور نبی رحمت شفیع اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی رخصت قبول کرلی ہوتی۔ ‘‘
ایک روایت میں یوں ہےکہ سرکارِ مکہ مکرمہ سردارِ مدینہ منورہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ تیری اولاد کا تجھ پر حق ہے۔ ‘‘ اورایک روایت میں یوں ہے کہ تین مرتبہ یہ ارشاد فرمایا: ’’ جس نے ہمیشہ کا روزہ رکھا اس نے روزہ نہیں رکھا۔ ‘‘ ایک روایت میں ہے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّکےنزدیک سب سے پسندیدہ روزہ حضرت داؤد عَلَیْہِ السَّلَام کا روزہ ہے اور سب سے پسندیدہ نماز حضرت داؤد عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی نماز ہے۔ وہ آدھی رات آرام کرتے، دوتہائی رات نماز پڑھتےپھر چھٹا حصہ آرام فرماتے، ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن نہ رکھتے اور جب جنگ میں دشمن کا سامنا ہوتا تو پیچھے نہیں ہٹتے تھے۔ ‘‘ ایک روایت میں ہے کہ حضرت سَیِّدُنَا عبداللہ بن عَمروبن عاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَانے فرمایا کہ میرے والد نے ایک شریف عورت سے میرا نکاح کیا اور اس کا بہت خیال رکھتے، اس سے میرے بارے میں پوچھتے، تو وہ جواب دیتیں : ’’ وہ بہت اچھے آدمی ہیں ، جب سے میں ان کے پاس آئی ہوں ، کبھی میرے بستر پر نہیں آئے اور نہ ہی کبھی مجھ سے قربت کی۔ ‘‘ جب اس بات کو کافی عرصہ گزر گیاتو انہوں تاجدارِ رسالت شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسےاس بات کا ذکر کیا۔تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ اسے میرے پاس لاؤ۔ ‘‘ چنانچہ جب میں حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے ملا تو آپ نے استفسار فرمایا: ’’ تم (نفلی ) روزے کس طرح رکھتے ہو؟ ‘‘ میں نے عرض کی: ’’ ہر روز رکھتا ہوں ۔ ‘‘ فرمایا: ’’ قرآن کیسے ختم کرتے ہو؟ ‘‘ میں نے عرض کی: ’’ ہررات قرآن ختم کرتا ہوں ۔ ‘‘ پھر سابقہ روایت بیان