اَبِي امْرَاَةً ذَاتَ حَسَبٍ ، فَكَانَ يَتَعَاهَدُ كَنَّتَهُ.اَ يْ: اِمْرَاَةَ وَلَدِهِ. فَيَسْاَ لُهَا عَنْ بَعْلِهَا، فَتَقُوْلُ لَهُ: نِعْمَ الرَّجُلُ مِنْ رَجُلٍ لَمْ يَطَاْ لَنَا فِرَاشًا وَلَمْ يُفَتِّشْ لَنَا كَنَفًا مُنْذُ اَ تَيْنَاهُ.فَلَمَّا طَالَ ذٰلِكَ عَلَيْهِ ذَكَرَ ذٰلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقَالَ: اَلْقَنِيْ بِهِ، فَلَقِيْتُهُ بَعْدَ ذٰلِكَ فَقَالَ: كَيْفَ تَصُوْمُ؟ قُلْتُ: كُلَّ يَوْمٍ، قَالَ: وَكَيْفَ تَخْتِمُ؟ قُلْتُ: كُلَّ لَيْلَةٍ، وَذَكَرَ نَحْوَ مَاسَبَقَ، وَکَانَ يَقْرَاُ عَلٰی بَعْضِ اَهْلِهِ السُّبُعَ الَّذِي يَقْرَؤُهُ، يَعْرِضُهُ مِنَ النَّهَارِ لِيَكُونَ اَخَفَّ عَلَيْهِ بِاللَّيْلِ، وَ اِذَا اَرَادَ اَنْ يَتَقَوَّ ى اَفْطَرَ اَ يَّامًا وَاَحْصٰى وَصَامَ مِثْلَهُنَّ كَرَاهِيَةَ اَنْ يَتْرُكَ شَيْئًا فَارَقَ عَلَيْهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. (1)
(قَالَ النَّوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی:) کُلُّ ہٰذِہِ الرِّوَایَاتِ صَحِیْحَۃٌ مُعْظَمُہَا فِی الصَّحِیْحِیْنَ وَقَلِیْلٌ مِنْہَا فِیْ اَحَدِہِمَا.
ترجمہ :حضرت سَیِّدُنَا عبداللہ بن عَمرو بن عاصرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہےکہ حضورنبی اکرم نورِمُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو میرے بارے میں بتایا گیا کہ میں یہ کہتاہوں : ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! جب تک میں زندہ رہوں گا، دن کوروزہ رکھوں گااور رات کوقیام (یعنی نوافل کی ادائیگی) کروں گا۔ ‘‘ حضور رحمت عالَم نورِمُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ کیا تم نے یہ بات کہی ہے؟ ‘‘ میں نے عرض کی: ’’ جی ہاں ! یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میرے ماں باپ آپ پرفدا ہوں ! میں نے یہ بات کہی ہے۔ ‘‘ فرمایا: ’’ تم اس کی طاقت نہ رکھو گے، پس کبھی (نفلی) روزہ رکھو اور کبھی نہ رکھو، نیند بھی کرو اور قیام (رات کی نفلی عبادت) بھی کرو اور ہر مہینےمیں تین روزے رکھ لیا کرو ، کیونکہ بے شک ایک نیکی کا ثواب دس گنا ہے اور یہ زندگی بھر کے روزے رکھنے کی طرح ہے۔ ‘‘ میں نے عرض کی: ’’ میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں ۔ ‘‘ فرمایا: ’’ ایک دن روزہ رکھو، دو ۲دن چھوڑدو۔ ‘‘ میں نے عرض کی: ’’ میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں ۔ ‘‘ فرمایا: ’’ ایک دن روزہ رکھو ایک دن چھوڑدو، یہ داؤد عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے روزے ہیں اور یہ مُعْتَدِل ترین روزے ہیں ۔ ‘‘ ایک روایت میں ہے کہ ’’ یہ (نفلی) روزوں کا بہترین طریقہ ہے۔ ‘‘ میں نے عرض کی: ’’ میں
________________________________
1 - بخاری، کتاب فضائل القرآن، باب فی کم یقرأ القرآن، ۳ / ۴۱۷، حدیث: ۵۰۵۲ بتغیر۔