Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
451 - 662
(1)	اپنے دوستوں  کی تعظیم وتوقیر کرنا اور ان کی جائز خواہشات کو  پوری کرناصحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کا طرزِعمل ہے،  نیز ا س میں اپنے مسلمان بھائی کی دلجوئی بھی ہے جو کہ کارِ ثواب ہے۔
(2)	جب مہمان اپنےساتھ کھانےکی خواہش کرے تومیزبان کےلیےنفلی روزہ توڑدینا جائزبلکہ کارِ ثواب ہے کیونکہ یہ حکم شرعی پرعمل ہےنیز بعدمیں روزہ کی قضاء لازم ہے۔
(3)	نفل روزہ بلاعذر توڑدینا ناجائز ہے،  میزبان کے ساتھ کھانا نہ کھانا مہمان کو ناگوار گزرے گا،  یا میزبان کو اذیت ہوگی تو اس عذر کی وجہ سے نفلی روزہ توڑنا جائز ہے جبکہ یہ بھروسہ ہو کہ بعد میں اس کی قضا رکھ لے گا اور یہ توڑنا ضحویٰ کبری سے پہلے ہو۔
(4)	بندےپرحقوقُ اللہ کےساتھ  ساتھ حقوق ُالعباد بھی لازم ہیں لہٰذاتمام حقوق اداکرنے چاہئیں ۔ 
اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے پیارے حبیب،  حبیب لبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے عطا کردہ احکامات کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطافرمائے،  دنیا وآخرت میں کامیابیاں عطا فرمائے۔ 
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر:150        	   		
صومِ داؤدی کی فضیلت
عَنْ  اَ بِيْ  مُحَمَّدٍ عَبْدِ اللهِ   بْنِ عَمْرِو  بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ:اُخْبِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَنّیِ اَقُوْلُ: وَاللهِ لَاَصُوْمَنَّ النَّهَارَ،  وَلَا َقُوْمَنَّ اللَّيْلَ مَاعِشْتُ،  فَقَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اَنْتَ الَّذِيْ تَقُوْلُ ذٰلِكَ؟  فَقُلْتُ لَهُ: قَدْ  قُلْتُهُ  بِاَبِيْ اَنْتَ وَاُمِّي  يَا رَسُوْلَ اللَّهِ. قَالَ: فَاِنَّكَ  لَا تَسْتَطِيْعُ  ذَلِكَ،  فَصُمْ وَاَفْطِرْ وَنَمْ وَقُمْ وَصُمْ مِنَ الشَّهْرِ ثَلَاثَةَ اَ يَّامٍ فَاِنَّ الْحَسَنَةَ بِعَشْرِ اَمْثَالِهَا،  وَذٰلِكَ مِثْلُ صِيَامِ الدَّهْرِ قُلْتُ: فَاِنِّي اُطِيْقُ اَفْضَلَ مِنْ ذٰلِكَ،  قَالَ:فصُمْ يَوْمًا وَاَفْطِرْ يَوْمَيْنِ،  قُلْتُ: فَاِنِّي اُطِيْقُ اَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ. قَالَ:فصُمْ  يَوْمًا وَاَفْطِرْ يَوْمًا،  فذَ لِكَ صِيَامُ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام،  وَهُوَ  اَعْدَلُ الصِّيَامِ. وَفِيْ رِوَايَةٍ: هُوَ اَفْضَلُ الصِّيَامِ. فَقُلْتُ:  فَاِنِّي  اُطِيْقُ  اَفْضَلَ مِنْ  ذٰلِكَ. فَقَالَ  رَسُوْلُ اللَّهِ   صَلَّى اللَّهُ  عَلَيْهِ  وَسَلَّمَ: لَا  اَفْضَلَ  مِنْ  ذَلِكَ. وَ لِاَنْ