Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
450 - 662
ان کے پاس آؤ اور ان کی خواہش  پوری کرو۔ ‘‘  (1)  
نفلی روزہ توڑنے کے اَحکام:
ضیافت مہمان اور میزبان  دونوں کے ‏لیے نفلی روزہ توڑنے کا عذر ہے۔   شریعت مطہرہ نے اس کی اجازت دی ہے بلکہ  اپنے مسلمان بھائی  کی دِل جوئی پر   ثواب بھی  رکھاہے  جیسا کہ”مَرَاقِی الفَلاح  شرح نُورِ الاِیضاح“میں ہے:  ’’ کوئی شخص نفلی روزہ رکھے اور اپنے  بھائی کے گھر جائے ،  وہ اسے کھانے کی دعوت دے تو  اسے روزہ توڑ  نا جائز ہے۔حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اِس فرمان کی بنا پر کہ ”جس نے اپنے مسلمان  بھائی کے حق کے ‏لیے اپنا  (نفلی )  روزہ توڑ دیا  تو اس کے ‏لیے  ایک ہزار روزوں کا ثواب لکھا جاتا ہے اور پھر جب وہ اس روزے کی قضا کرتا ہے  تو اس کے ‏لیے  دو ہزار روزوں کا ثواب لکھا جاتا ہے۔“ (2) 
صَدْرُالشَّرِیْعَہ،  بَدرُالطَّرِیْقَہحضرتِ علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’ نفل روزہ بلاعذر توڑ دینا ناجائز ہے،  مہمان کے ساتھ اگرمیزبان نہ کھائے گا تو اسے ناگوار ہوگا یا مہمان اگر کھانا نہ کھائے تو میزبان کو اذیت ہوگی تو نفل روزہ توڑ دینے کے لیے یہ عذر ہے،  بشرطیکہ یہ بھروسہ ہو کہ اس کی قضا رکھ لے گا اور بشرطیکہ ضحوہ کبریٰ سے پہلے توڑے بعد کو نہیں ۔ زوال کے بعد ماں باپ کی ناراضی کے سبب توڑ سکتا ہے اور اس میں بھی عصر کے قبل تک توڑ سکتا ہے بعد عصر نہیں ۔ ‘‘  (3) 
مدنی گلدستہ
ماہِ  ’’ رمضان ‘‘ کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1)	مسلمانوں کاآپس میں بھائی چارہ قائم کرنااُمَّت مسلمہ کی دینی ودنیاوی مصلحتوں کاپیش خیمہ ہے۔



________________________________
1 -   دلیل الفالحین، باب   فی الاقتصاد  فی العبادۃ ،۱‏ / ۳۹۴، ۳۹۵،تحت الحدیث: ۱۴۹ملخصا۔
2 -   نور الایضاح  مع مَراقی الفلاح ،  کتاب الصوم ، فصل فی العوارض ،ص ۳۴۹ ۔
3 -   بہارشریعت، ۱‏ / ۱۰۰۷، حصہ۵۔