Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
45 - 662
 دُعثور سے کہا کہ محمد اکیلے ہیں ،  یہ اچھاموقع ہے، جا کراُن پرحملہ کردو۔چنانچہ دُعثورجلدی  سے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پاس آیا اورتلوار بلند کر کے کہا: ’’ اب تمہیں مجھ  سے کون  بچائےگا؟  ‘‘  سَیِّدُ الْمُتَوَکِّلِیْن،  رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ میری حفاظت فرمائے گا۔ ‘‘  اتنے میں جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَام آئے اور دُعثور کے سینےپر ہاتھ ماراتو تلوار اس کے ہاتھ  سے  گر گئی۔ رسول ﷲصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے تلوار اُٹھاکر فرمایا: ’’ اب تجھےمجھ سے کون بچائے گا؟  ‘‘ دُعثور  نے کانپتے ہوئے  کہا: ’’ کوئی نہیں ۔ ‘‘ اور پھر وہ پکار اٹھا:  ’’ اَشْھَدُ اَنْ  لَّا اِلٰہَ  اِلَّا اللہُ  وَاَ نَّکَ رَسُوْلُ اللہ ِیعنی میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اورآپ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے رسول ہیں ۔ ‘‘ پھر وہ اِیمان کی دولت سے سرشار ہو کر اپنی قوم کے پاس  تشریف لے گئے اوراُنہیں اِسلام کی دعو ت دی اور اُن کے ذریعے بہت سے لوگ دامن اِسلام سے وابستہ ہوئے۔ ‘‘  (1) 
حدیث میں مذکور چنداُمور کی وضاحت:
محدثین کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کا اس بارے  میں  اختلاف ہے کہ اس اعرابی کا نام کیا تھا، یہ  واقعہ کس غزوہ میں پیش آیا،  زمانہ نبوی  میں یہ واقعہ ایک ہی مرتبہ  پیش آیا یا  ایک سے  زیادہ مرتبہ؟  دُعثور اورغويرث  دو علیحدہ شخص ہیں یایہ ایک ہی شخص کے دو نام ہیں ؟ علامہ بَدْرُ الدِّیْن عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’ اس اعرابی  کانام غُوَ یْرَث بن حارثتھا ۔ خطیب  نے   اس کا نام غَوْرَکجبکہ علامہ خطابی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی نے اس  کانام ’’ غُوَ یْرَث ‘‘ بتایا۔ابن اسحاق عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الرَّزَاقنے کہا کہ یہ واقعہ غزوۂ غَطْفَان میں پیش آیا۔ ایک قول کے مطابق غزوہ ذی  اَمَرّ  کاواقعہ ہے۔ ذِی اَمَرّ غطفان میں ایک جگہ کا نام ہے۔ جبکہ علامہ واقدی نے اسے غزوہ اَنمار قرار دیا۔اور ایک قول یہ ہے کہ یہ واقعہ غزوہ ذات الرقاع میں پیش آیا۔ (2)  
شیخ الحدیث علامہ  عبدالمصطفٰےاعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی   فرماتے ہیں : ’’ بعض مؤرخین نے تلوار کھینچنے 


________________________________
1 -   زرقانی علی المواھب، کتاب المغازی، غزوۃ غطفان، ۲‏ / ۳۷۹ ۔ ۳۸۱ ملتقطا۔
2 -   عمدۃ القاری، کتاب الجھاد والسیر، باب من علق سیفہ بالشجر فی السفر۔۔۔الخ،  ۱۰‏ / ۲۳۱ ، تحت الحدیث: ۲۹۱۰ملتقطا۔