Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
448 - 662
 فَقَالَ لَہُ: نَمْ فَلَمَّا كَانَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ قَالَ سَلْمَانُ:قُمِ الْآنَ،  فَصَلَّيَا جَمِیْعًا، فَقَالَ لَهُ سَلْمَانُ: اِنَّ لِرَبِّكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَ اِنَّ  لِنَفْسِكَ عَلَيْكَ حَقًّا،  وَلِاَهْلِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، فَاَعْطِ كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ،  فَاَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ،  فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صَدَقَ سَلْمَانُ. (1) 
ترجمہ :حضرتِ سَیِّدُناابوجُحَیْفَۃ وہب بن عبداللہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسےروایت ہے،  حضور تاجدارِ رسالت شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سَیِّدُنَا سلمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اور حضرت سَیِّدُنَا ابودَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے درمیان بھائی چارہ قائم فرمایا۔ ایک دن حضرت سَیِّدُنَاسلمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ حضرت سَیِّدُنَاابودَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکےہاں تشریف  لے گئےتو حضرت سَیِّدَتُنَا اُمِّ دَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کو پرانے عام سے  کپڑوں میں دیکھ کرفرمایا:  ’’ یہ کیاحالت ہے؟  ‘‘  کہا : ’’ آپ کے بھائی اَبُو دَرْدَاء کو دنیا کی کچھ حاجت نہیں ۔ پس جب حضرت سَیِّدُنَا ابودَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُآئے تو انہوں نے حضرت سَیِّدُنَا سلمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے ‏لیےکھانا تیار کیا اور فرمایا : ’’ کھا ئیے! میں روزے سے  ہوں ۔ ‘‘ حضرت سَیِّدُنَاسلمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا: ’’ جب تک تم نہیں کھاؤ گے میں بھی نہیں کھاؤں گا۔ ‘‘  چنانچہ انہوں نےبھی کھایا۔ جب رات ہوئی تو  حضرت  سَیِّدُنَاابودَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ عبادت کے ‏لیے جانے لگے۔فرمایا :  ’’ ابھی سوجاؤ۔ ‘‘  تو وہ سو گئے۔کچھ دیر بعدوہ دوبارہ نماز کے ‏لیے جانے لگے توفرمایا:  ’’ سوجاؤ۔ ‘‘  
پھر جب رات کاآخری حصہ ہوا تو فرمایا:  ’’ اب اٹھو۔ ‘‘  چنانچہ دونوں نے اکٹھے نماز ادا کی۔ حضرت سَیِّدُنَاسلمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا:  ’’ بے شک تمہارے ربّعَزَّ  وَجَلَّ  کاتم پر حق ہے اور تمہارےنفس کا تم پرحق ہےاور تمہارے گھر والوں کا تم پر حق ہے۔ لہٰذا ہر حقدار کو اس کا حق دو۔پھر جب حضرت سَیِّدُنَا ابودَرْدَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ حضور نبی اکرم نورِمُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سارا واقعہ عرض کیا تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:  ’’ سلمان  (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ) نے سچ کہا۔ ‘‘ 



________________________________
1 -   بخاری، کتاب الصوم، باب  من اقسم علی اخیہ ۔۔۔الخ ،۱‏ / ۶۴۷،حدیث: ۱۹۶۸۔