Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
447 - 662
مدنی گلدستہ
 ’’ جَنَّت ‘‘ کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اُس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1)	خطیب کوچاہیےکہ وعظ ونصیحت کادورانیہ نہ تو بہت طویل رکھے اور نہ ہی بہت مختصر بلکہ متوسط رکھےاورحالاتِ حاضِرہ کےمطابق لوگوں کی اِصلاح کرے۔
(2)	بدعت سیئہ یعنی بُری بدعت سے بچنا چاہیے جبکہ بدعتِ حسنہ کو دین میں بڑی اہمیت  حاصل ہے اور یہ بدعت ممنوع نہیں ہے بلکہ اچھی اچھی نیتوں کے ساتھ اگر کی جائے تو اس پر بڑے اجروثواب کی امید ہے،  جیساکہ خطبے میں خلفاءراشدین، صحابۂ کرام اوراہل بیعترَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ  کاتذکرہ کرنا،  یہ بھی بدعت حسنہ ہے اور باعث اجروثواب ہے۔
(3)	صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاناپنے پیارے پیارے آقا مدینے والے مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اَداؤ ں پر نظر رکھتے  اور اُنہیں کے مطابق  اپنی زندگی گزارنے کی کوشش کرتے۔
اللہ عَزَّ  وَجَلَّسےدعاہےکہ وہ ہمیں   اپنی نمازوں میں میانہ روی اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے،  اور ہمیں پیارے آقا مدینے والے مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی سنتوں کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ 			        آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم 
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر:149     	                                                                                   
حق دارکواس کاحق دو
عَنْ اَبِيْ جُحَيْفَةَ  وَهْبِ بْنِ عَبْدِ الله ِرَضِي َ الله ُ عَنْهُ قَالَ:آخَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ سَلْمَانَ وَاَبِي الدَّرْدَاءِ، فَزَارَسَلْمَانُ اَبَاالدَّرْدَاءِ فَرَاَى اُمَّ الدَّرْدَاءِ مُتَبَذِّلَةً،  فَقَالَ: مَا شَاْنُكِ؟  قَالَتْ: اَخُوْكَ اَبُو الدَّرْدَاءِ لَيْسَ لَهُ حَاجَةٌ  فِي الدُّنْيَا. فَجَاءَ اَبُو الدَّرْدَاءِ فَصَنَعَ لَهُ طَعَامًا،  فَقَالَ لَہُ: کُلْ! فَانِّیْ صَائِمٌ . قَالَ: مَا اَنَا بِآكِلٍ حَتَّى تَاْ كُلَ. فَاَ  كَلَ . فَلَمَّا كَانَ اللَّيْلُ ذَهَبَ اَبُو الدَّرْدَاءِ يَقُوْمُ فقَالَ لَہُ: نَمْ،  فَنَامَ،  ثُمَّ ذَهَبَ يَقُوْمُ