نمازبھی درمیانی ہوتی اور خطبہ بھی درمیانہ ہوتا۔ ‘‘
رسول اللہ جَوَامِعُ الْکَلِم تھے:
عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافَعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتےہیں : ’’ حضرت سَیِّدُنَا جابر بن سَمُرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کی کنیت ابوعبداللہ اورایک قول کے مطابق ابوخالد ہے۔سُوائی آپ کا لقب ہے۔آپ اورآپ کے والد محترم کو شرفِ صحابیت حاصل ہے۔آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے 146احادیث مروی ہیں ۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے 66سن ہجری میں اس دنیا سے کوچ فرمایا۔آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! میں نے حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ ایک ہزارسے زیادہ نمازیں پڑھیں ، آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نماز کو اس کے تمام کمالات اور سنتو ں کے ساتھ اس طرح ادا فرماتے کہ آپ کی نماز نہ تو بہت طویل ہوتی اور نہ ہی بہت مختصر۔اسی طر ح جمعہ وغیرہ کا خطبہ بھی مُعْتَدِل ہو تا ۔ کیونکہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجوامِعُ الْکَلِم تھے ، بہت ساری باتوں کو آسان اور کم الفاظ میں بیان فر مادیتے۔ ‘‘ (1)
خطبہ کےآداب:
مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان نعیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ٭ ’’ جمعہ کے لیے خطبے دو 2پڑھے جائیں ۔٭دوسرے یہ کہ خطبہ میں قرآن کریم کی آیت بھی تلاوت کی جائے۔٭ تیسرے یہ کہ خطبے میں وعظ و نصیحت کے الفاظ بھی ہوں ۔٭چوتھےیہ کہ خطبہ نہ بہت دراز ہو نہ بہت مختصر۔٭ پانچویں یہ کہ دو خطبوں کے درمیان منبر پر بیٹھ کر فاصلہ کرے۔ خیال رہے کہ خلفاء اور صحابہ و اہل بیت رَضِیَ اللہُ عَنْہُمْ کا ذکر نہ سنت رسولُ ﷲہے نہ سنت ِصحابہ، بلکہ بدعت حسنہ ہے۔ جس کی وجہ ہم پہلے عرض کرچکے ہیں یہ ضرور کی جائے، جو لوگ ہر بدعت کو حرام کہتے ہیں وہ اس کو کیا کہیں گے؟ ‘‘ (2)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
________________________________
1 - دلیل الفالحین، باب فی الاقتصاد فی العبادۃ ،۱ / ۳۹۳،تحت الحدیث: ۱۴۸۔
2 - مرآۃ المناجیح، ۲ / ۳۴۳۔