”اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِیْ یا اَللّٰھُمَّ ارْحَمْنِیْ“کہنے کے یوں کہہ دے:اےاللہ عَزَّ وَجَلَّ! مجھے عذاب دے اور مجھ پر لعنت کر۔ ‘‘ (1)
نمازودعامیں احتیاط ضروری ہے:
مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’ معلوم ہوا کہ اُونگھتے ہوئےنماز پڑھنامکروہ وممنوع ہے کہ جس کی وجہ آگے آرہی ہے۔مثلاً اونگھتے ہوئے بجائے اِغْفِرْلِیْ کےاِعْفِرْلِیْ کہہ جائے غَفَرَ (غین کے ساتھ) کے معنی ہیں بخشنا، عَفَرَ (عین کے ساتھ) کے معنی ہیں مٹی میں ملانا، ذلیل وخوار کرنااور بعض ساعتیں قبولیت کی ہوتی ہیں جو زبان سے نکلے وہ ہوجاتا ہے۔ اس لیے بہت احتیاط چاہیے۔ خیال رہے کہ بعض دفعہ مقتدی امام کے پیچھے اُونگھ جاتے ہیں ، انہیں منہ دھو کر کھڑا ہونا چاہیے مگراُس اُونگھ کی وجہ سے نمازباجماعت نہ چھوڑنی چاہیے۔ ‘‘ (2)
نیند و اُونگھ سے متعلق چندضروری مسائل:
(1) بیمارلیٹ کر نماز پڑھتا تھا نیند آگئی وُضو جاتا رہا۔ (2) اُونگھنے یا بیٹھے بیٹھے جھونکے لینے سے وُضو نہیں جاتا ۔ (3) جُھوم کر گر پڑا اور فوراً آنکھ کھل گئی وُضو نہ گیا۔ (4) نماز وغیرہ کے انتظار میں بعض مرتبہ نیند کا غلبہ ہوتا ہے اور یہ دفع کرنا چاہتا ہے تو بعض وقت ایسا غافل ہو جاتا ہے کہ اس وقت جو باتیں ہوئیں اُن کی اِسے باِلکل خبر نہیں بلکہ دو تین آواز میں آنکھ کھلی اور اپنے خیال میں یہ سمجھتا ہے کہ سویا نہ تھا، اس کے اِس خیال کا اعتبار نہیں اگر معتبر شخص کہے کہ تُو غافل تھا، پکارا جواب نہ دیا یا باتیں پوچھی جائیں اور وہ نہ بتا سکے تو اس پر وُضو لازم ہے۔ فائدہ: انبیاءعَلَیْہِمُ السَّلَام کا سونا ناقض وُضو نہیں ان کی آنکھیں سوتی ہیں دل جاگتے ہیں ۔ علاوہ نیند کے اور نواقض سے انبیاء عَلَیْہِمُ السَّلَام کا وُضو جاتا ہے یا نہیں ، اس میں اختلاف ہے ، صحیح یہ ہے کہ جاتارہتا ہے بوجہ اُن کی عظمتِ شان کے، نہ بسبب نجاست کے کہ ان کے فُضْلَاتِ شریفہ طَیِّب و طاہِر ہیں
________________________________
1 - اشعۃ اللمعات،کتاب الصلوۃ، باب القصد فی العمل،۱ / ۵۶۴ ۔
2 - مرآۃالمناجیح ،۲ / ۲۶۴۔