Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
443 - 662
ہےکیونکہ نیند کا غلبہ رات ہی میں ہوتا ہے ۔ ‘‘  (1) 
اُونگھتےہوئےنماز پڑھنا:
عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ’’ حدیث پاک میں سونے کا حکم اِستحبابی ہے اور اس حکم پر عمل کرنے والے کو ثواب بھی ملے گااور ا ُونگھ کی حالت میں نماز پڑھنا مکروہ ہے یہاں تک کہ نیند چلی جائے۔ ‘‘  (2)  
عَلَّامَہ شَھَابُ الدِّیْن اَحْمَدقَسْطلانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں : ’’ حدیث پاک میں سونے کاحکم احتیاطاً دیا گیاہےاور یہ حکم ایک احتمالی علت کی بناپر  ہے۔امام نَسائی  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی ایک روایت میں ہے کہ نمازمکمل کرنے کے بعدنیند پوری کرے ۔نہ یہ کےصرف اُونگھ آنے  کی بناپرہی نماز توڑدے۔ ‘‘  (3) 
 اُونگھ اورنیند کامفہوم:
محقق علی الاطلاق شیخ عبدالحق محدّث دہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیفرماتےہیں : ’’  اُونگھ ، نیند کی گرانی اور اس کی ابتدائی حالت  ہے ۔اُونگھ دراصل ایک لطیف ہوا ہوتی ہے جو دماغ کی طرف سے آتی ہے اور آنکھوں کو ڈھانپ لیتی ہےاور دل تک نہیں پہنچتی۔ جب یہ ہوا  دل تک پہنچ جاتی ہے تو اسے نیند کہتے ہیں ۔  اُونگھ کی صورت میں اگر اُٹھ کھڑاہواور کام کاج کرنے لگے جس سے اُونگھ دُور ہوجائے تو ایسا ہوجاتاہے۔مگر جب  نیند غالب آجائےاور اسے ہٹانادماغ کو نقصان دے  اور بدن کے بوجھل ہونے کا باعث بنے تو یہ حالت اختلاف حالات واَوقات سے معلوم ہوجاتی ہے۔حدیث پاک کے الفاظلَا یَدْرِیْ (یعنی وہ نہیں جانتا) سے  مراد یہ ہے کہ نیند کی وجہ سے اسے معلوم نہ ہوگا کہ وہ نماز کا کونسا فعل اور نماز کے کون سے کلمات کہہ رہا ہے۔ ہوسکتاہے کہ وہ دعاواستغفارکرے مگر اس سے غلطی واقع ہوجائے اور اپنے آپ کو  برا بھلا  کہنے لگے۔اسی طرح  بجائے 



________________________________
1 -   شرح مسلم للنووی ، کتاب صلوۃ المسافرین وقصرھا، باب امرمن نعس فی صلاتہ۔۔۔الخ،۳‏ / ۷۴،الجز السادس  ۔
2 -   مرقاۃ المفاتیح،کتاب الصلاۃ،باب القصد فی العمل،۳‏ / ۳۱۷، تحت الحدیث: ۱۲۴۵۔
3 -   ارشاد الساری، کتاب الوضو ء، باب الوضوء من النوم، ۱‏ / ۵۱۰، تحت الحدیث: ۲۱۲۔