Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
442 - 662
 اپنی عبادات میں لگادے،  ہمیں تنگی اور غفلت اور عبادات میں اکتاہٹ سےمحفوظ فرمائے۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
            حدیث نمبر: 147		
اُوْنْگھ کی حالت میں نماز پڑھنے کی مُمَانَعَت
عَنْ  عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ  عَنْهَا اَنَّ رَسُوْلَ اللَّهِ  صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ  وَسَلَّمَ  قَالَ: اِذَا نَعَسَ اَحَدُكُمْ  وَهُوَ  يُصَلِّي،  فَلْيَرْقُدْ  حَتَّى  يَذْهَبَ عَنْهُ النَّوْمُ،   فَاِنَّ اَحَدَكُمْ   اِذَا صَلَّى وَهُوَ  نَاعِسٌ لَا يَدْرِيْ  لَعَلَّهُ   يَذْهَبُ  يَسْتَغْفِرُ   فَيَسُبَّ  نَفْسَهُ. (1)  
ترجمہ :اُمُّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنَا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسےمروی ہے،  رسولِ اکرم نورِمُجَسَّم شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:  ’’ جب تم میں سے کسی کو نماز کی حالت میں اُونگھ آئے تو اُسے چاہیے کہ  سوجائے یہاں تک کہ اُس کی نیند چلی جائے کیونکہ جب تم میں سے کوئی اُونگھتے ہوئے نماز پڑھے تو وہ نہیں جانتاکہ شایدبخشش مانگتے مانگتے وہ اپنے آپ کو گالیاں دینے لگے۔ ‘‘ 
نمازی کی کیفیت کیسی ہونی چاہیے؟ 
 عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ اس حدیث پاک میں ترغیب ہے کہ نماز کے ‏لیے خشو ع وخضوع، فراغتِ قلب اور نشاط وسرور کے ساتھ آنا چاہیےاورجس شخص پرنیند کا غلبہ ہواسےسونے کاحکم دیاگیاہےتاکہ اس کی نیند چلی جائے اور یہ حکم فرض نمازاوردن و رات کے نوافل میں عام ہےاوریہی ہمارااور جمہورکامذہب ہےلیکن اگرفرض نمازکا وقت جارہاہو اور اسے نیند کا غلبہ ہو تو وہ ہر گز نہ سوئے  بلکہ فرض نماز وقت میں ادا کرے۔ ‘‘  حضرت سَیِّدُنَا قاضی عیاض عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَہَّابفرماتے ہیں :  ’’ حضرت  سَیِّدُنَا امام مالک عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْخَالِقاور ایک جماعت نے اس حکم کو رات کی نفلی عبادت پر محمول کیا 



________________________________
1 -   بخاری، کتاب الوضو ء،باب الوضو ء  من النوم ومن لم ير من النعسة ۔۔۔الخ،۱‏ / ۹۴،حدیث: ۲۱۲   ۔