Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
441 - 662
گزاری اس کو دشوارنہ ہوتو اس کی ممانعت نہیں ہے۔ ‘‘  (1) 
بعض صورتوں میں نیند بھی عبادت  ہے :
مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’  اگر کھڑے کھڑے نوافل پڑھتے تھک گیاہے توبیٹھ کر پڑھے۔ اس بیٹھنے میں اِنْ شَآءَاللہقیام کا ثواب ملے گا۔ یا اگر نماز نفل سے تھک گیاہے تو کچھ دیرآرام کےلیے بیٹھ جائے۔ اس آرام میں نفل کا ثواب ملے گا کیونکہ یہ آرام آئندہ نفل کی تیاری کے ‏لیےہے۔جوعادت عبادت کی تیاری کےلیے ہووہ عبادت ہے۔ اس لیے کہا جاتاہےکہ عالِم کی نیند عبادت ہے کہ اس کے ذریعہ وہ بہت سے کام کرے گا۔ ‘‘  (2) 
مدنی گلدستہ
 ’’ سُنَّت ‘‘ کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1)	جب تک  دل جمعی باقی رہے، نفلی عبادت کی جائے،   جب اکتاہٹ محسوس ہو تو  کچھ دیر آرام کر لیا جائے   اور پھر دوبارہ نفلی عبادت کی جائے تاکہ  رغبت باقی رہے  ۔ 
(2)	 اگر کوئی کھٹرےکھڑے نوافل پڑھتے تھک گیا ہے تو بیٹھ کر پڑھے،  اس بیٹھنے میں قیام کا ثواب ملے گا،  اور اگر نماز ہی سے تھک گیا ہے تو کچھ دیر آرام کے لیے بیٹھ جائے،  اس آرام میں بھی نفل کا ثواب ملے گا کیونکہ یہ آرام آئندہ نوافل کی تیاری کے لیے ہے۔
(3)	کثرتِ عبادت  سے  انہیں منع کیا گیا ہے جو اکتاہٹ کاشکارہوجائیں  اور جن کے ‏لیے  کثرتِ عبادت  سکون اور دل جمعی کا باعث  ہو  اُن کے لیے کثرتِ عبادت کی ممانعت نہیں ۔
اللہ عَزَّ  وَجَلَّسے دعاہے کہ وہ ہمیں خشوع وخضوع  سے عبادت کرنے کی توفیق عطافرمائے،  ہمارا دل



________________________________
1 -   فیوض الباری،۵‏ / ۲۸ملتقطا۔
2 -   مرآۃالمناجیح ،۲‏ / ۲۶۴۔