Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
440 - 662
نمازی اپنے ربّ سے مناجات کرتاہے:
عَلَّامَہ شَھَابُ الدِّیْن اَحْمَد قَسْطلانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرماتے ہیں : ’’ جب تم  میں سے کوئی نماز پڑھے تو خشوع خضوع کے ساتھ پڑھےاور جب تھک جائے تو آرام کرے۔ مراد یہ ہے کہ تم میں سےہرایک اپنے نشاط کے وقت نمازپڑھے یااُس وقت نماز پڑھےجواُس نماز کے ‏لیے نشاط کاوقت ہےاور بعض نے فرمایا: نمازی  کو چاہیے کہ کامل اِرادے اورکامل ذوق سےنمازادا کرے کیونکہ  حالت نماز میں بندہ اپنے ربّ کے حضورمناجات کرتا ہے۔پس اُس وقت اُکتاہٹ  میں مبتلاہونا درست نہیں ۔ ‘‘  (1) 
کثرتِ عبادت  کی ممانعت کن کےلیے ہے؟ 
شارحِ بخاری  حضرت علامہ سَیِّد محمود اَحمد رضوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ واضح رہے کہ وہ تمام حدیثیں جن میں کثرتِ عبادت کی ممانعت آئی ہے تو یہ نہی  (ممانعت )  صرف ایسے افراد کے ‏لیےہے جو عبادت ورِیاضت میں ایسے مشغول ومعروف ہو جائیں کہ حقوق العباد تک تلف ہوجائیں اور عبادت اُن کے ‏لیےبار ہوجائے۔لیکن وہ لوگ جنہیں کثرتِ عبادت میں دِقّت نہ ہو بلکہ عبادت اُن کی غذا بن جائے تو ایسے اَفراد کے ‏لیے کثرتِ عبادت ممنوع نہیں ہے بلکہ محمودومطلوب ہے۔قرآن مجید میں فرمایا:  (كَانُوْا قَلِیْلًا مِّنَ الَّیْلِ مَا یَهْجَعُوْنَ (۱۷) )   ( پ۲۶،  الذّٰریٰت:۱۷)  ( ترجمہ ٔ کنزالایمان:وہ رات میں کم سویا کرتے۔) نیز حضور عَلَیْہِ السَّلَام کی عبادت ایسی ہوتی تھی کہ آپ کے قدم مبارک مُتَوَرَّم ہوجاتے تھے۔رمضان کے آخری عشرے میں حضور  (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) ساری رات عبادت میں گزار دیتے تھے۔حضرت عثمان غنی و حضرت عمر فاوق  (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا)  ساری رات عبادت میں مشغول رہتے تھے۔غرضیکہ مطلقاً کثرت ِعبادت ممنوع نہیں ہے،  بلکہ عبادت میں ایسی کثرت  جس کی طاقت نہ ہو او رطبع پر گراں ہو اس کی ممانعت آئی ہے۔حضور عَلَیْہِ السَّلَام کا ارشادلِیُصَلِّ اَحَدُکُمْ نَشَاطَہُ یعنی جب تم  میں سے کوئی نماز پڑھے تو خشوع خضوع کے ساتھ پڑھے۔جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ اگرکوئی شخص ساری رات قیام کرسکے اور ساری رات کی عبادت 



________________________________
1 -   ارشاد الساری، کتاب التھجد، باب مايكره من التشديد في العبادة،۳‏ / ۲۳۱، تحت الحدیث: ۱۱۵۰۔