Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
44 - 662
اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) نےاسے اپنے دامنِ کرم میں بلایا تھا مگر وہ آیا نہیں ۔ شعر
کرکے تمہارے گناہ مانگیں تمہاری پناہ    ………	تم کہو دامن میں آ تم پہ کروڑوں درود
اے میرے ربّ!جب تیرے بندے محمدمصطفےٰ  (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)  کے رحم خسروانہ،  عنایت شاہانہ کا یہ حال ہے تو مولی! تُو تو اُن کا ربّ ہے،  اَرْحَمُ الرّاحِمِیْن ہے، تیرے کرم و عفو و سخا کا کیا پوچھنا،  میرے مولیٰ! انہیں رؤف رحیم محبوب کا صدقہ ہم مجرموں سے در گزر فرما ، معافی دے دے ۔شعر
مَہْ فَشَانَدْ نُوْرسَگْ عُوْعُوْ کُنَدْ                         ………	ہَرْ    کَے    بَرْ   طِیْنَتْ  خُودْ    مِیْ    کُنَدْ
  (یعنی ) جب چاند چمکتا ہے تو  کتا اس پر بھونکتا ہوا حملہ کرتا ہوااُچھلتا ہے توچانداُس کے کھلے ہوئے منہ میں نُور ڈال دیتا ہے۔حضورچاند ہیں ،  اُس دشمن کو بھی اِیمان دے رہے ہیں ۔ (اَعرابی اپنے ساتھیوں کے پاس آیا اور کہا :میں بہترین اِنسان کے پاس سے آرہا  ہوں ) معلوم ہوتا ہے کہ اُس کا بدن تو آزاد ہوگیا مگر د ل مقید ہو گیا۔ کیا تعجب ہے کہ بعد میں اُسے ایمان بھی نصیب ہوگیاہو۔وَاللہُ وَرَسُوْلُہُ اَعْلَمُ  (1) 
حدیث میں مذکور جنگ کا پس منظر:
زُرْقَانِیْ عَلَی الْمَواھِب میں ہے کہ ربیع  الاول۳ ہجری میں حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کویہ خبر ملی کہ مدینہ منورہ پر حملہ کرنے کے ‏لیے نجد کے  مشہور بہادر ’’ دُعْثُوربن حارث مُحَارِبِی ‘‘ نے ایک بڑی فوج  تیار کر لی ہے۔چنانچہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماپنے 450 جاں نثار  صحابۂ کرام رضوانُ  اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِم اَجْمَعِیْن کا لشکر لے کرنجد پہنچ گئے۔جب دُعثور کو معلوم ہوا  کہمحمد (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)  ہمارے علاقے میں پہنچ چکے ہیں تو وہ اپنےساتھیوں کولے کرپہاڑوں کی جانب بھاگ گیامگر ’’ حبان ‘‘  نامی ایک شخص کو گرفتار کر لیا گیا۔ حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اُسےاِسلام کی دعوت دی تو وہ  کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوگیا۔اُس دن  شدیدبارش ہوئی تھی، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے  کانٹے  دار درخت پر اپنے کپڑے سکھانے کے ‏لیے پھیلادیئے اور وہیں آرام فرمانے لگے ۔پہاڑ پر موجود کفار آپ کو دیکھ رہے تھے انہوں نے


________________________________
1 -   مرآۃالمناجیح،۷‏ / ۱۲۰۔