حدیث نمبر:146
نماز میں خُشُوع وخُضُوع
وَعَنْ اَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ فَاِذَا حَبْلٌ مَمْدُوْدٌ بَيْنَ السَّارِيَتَيْنِ فَقَالَ: مَا هَذَا الْحَبْلُ؟ قَالُوْا: هَذَاحَبْلٌ لِزَ يْنَبَ، فَاِذَا فَتَرَتْ تَعَلَّقَتْ بِهِ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: حُلُّوْهُ، لِيُصَلِّ اَحَدُكُمْ نَشَاطَهُ، فَاِذَا فَتَرَ فَلْيَرْ قُدْ. (1)
ترجمہ :حضرت سَیِّدُنَا اَنَس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ سرکارِدوعالَم نورِمُجَسَّم شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممسجد میں داخل ہوئےتودو۲ستونوں کےدرمیان ایک رسی بندھی ہوئی دیکھ کر استفسار فرمایا: ’’ یہ رسی کیسی ہے؟ ‘‘ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے عرض کی: ’’ یہ حضرت سَیِّدَتُنَا زینبرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی رسی ہے جب وہ (عبادت کرتے کرتے) تھک جاتی ہیں تو اس کے ساتھ سہارا لیتی ہیں ۔ ‘‘ حضور نبی رحمت شفیع اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اِرشادفرمایا: ’’ اِسے کھول دو!جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو خشوع خضوع کے ساتھ پڑھےاور جب تھک جائے تو آرام کرے۔ ‘‘
عبادت میں شدت کب مکروہ ہے؟
عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ ذیالْجَلَالفرماتے ہیں : ’’ عبادت میں شدت اِختیارکرنا تھکاوٹ اور اُ کتاہٹ کے خوف کی وجہ سے مکروہ ہے ۔حضورنبی اکرم نورِمُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا: ’’ بہترین عمل وہ ہے جسے ہمیشہ کیا جائے اگرچہ تھوڑاہو۔ ‘‘ اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں اِرشاد فرماتا ہے: ( لَا یُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَاؕ- ) (پ۳ ، البقرہ:۲۸۶) (ترجمہ ٔ کنزالایمان: اللہکسی جان پر بوجھ نہیں ڈالتا مگر اُس کی طاقت بھر) ایک اور مقام پر ارشاد ہوتا ہے: ( وَ مَا جَعَلَ عَلَیْكُمْ فِی الدِّیْنِ مِنْ حَرَجٍؕ-) (پ۱۷، الحج:۷۸) ( ترجمہ ٔ کنزالایمان:اور تم پر دین میں کچھ تنگی نہ رکھی۔) رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے عبادت میں اِفراط ( زیادتی) کوناپسند فرمایاہے تاکہ اکتاہٹ نہ ہو ۔ ‘‘ (2)
________________________________
1 - بخاری، کتاب التهجد، باب مايكره من التشديد في العبادة،۱ / ۳۹۰،حدیث: ۱۱۵۰بتغیر۔
2 - شرح بخاری لابن بطال، کتاب الاستسقاء،باب مايكره من التشديد في العبادة،۳ / ۱۴۴۔