Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
438 - 662
 نذرما ن لے تونہ کرسکےگاپھراپنی نذرکی وجہ سےگناہ گارہوگا۔ (خوش رہو) یعنی نیک اعمال کیے جاؤ اللہ  (عَزَّوَجَلَّ )  سےقرب اختیار کرواور لوگوں کودین سے ڈراؤ نہیں بلکہ خوشخبریاں دے کراُدھرمائل کرویا خود خوش وخرم رہوکہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ہماری کوتاہیوں سے درگزرفرمائے گا،  ہمیں اپنے فضل سے بخش دے گا یعنی دوسروں کو خوشخبریاں دویا خودخوشخبریاں لو۔ ‘‘  (1)  
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
مدنی گلدستہ
 ’’ اسلام ‘‘ کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1)	دین اسلام سب مذاہب سے آسان ہے ۔ اس  میں  اِفراط وتفریط  بالکل نہیں  ۔ 
(2)	اِسلام ہمیں  قول وفعل میں  سیدھی اور ستھری  راہ  اختیار کرنے کا حکم دیتا ہے ۔ 
(3)	جو کسی غیر  لازم کام کو ہمیشہ  کے ‏لیے  اپنے اوپر لازم کر لیتا ہے،  اسے پریشانیوں اور اُ کتاہٹ کا سامنا  کرنا پڑتا ہے  اور اکثر اوقات  وہ اُس عمل سے دُور ہو جاتا ہے ۔  
(4)	لوگوں کو جنت و رحمت الٰہی کی خوشخبری سنا کر اَعمالِ  صالحہ کی طرف راغب کرنا چاہیے ۔ 
(5)	میانہ روی اختیار کرنے والے اپنے مقصد میں کامیاب ہو جاتےہیں ۔ 
اللہ عَزَّ  وَجَلَّسےدعاہےکہ وہ ہمیں  میانہ روی اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے،  ہمیں دین کے اَحکا م پر عمل پیرا ہونے  کی  توفیق عطا فرمائے،  ہمارے تمام گناہوں کو معاف فرمائے،  ہماری حتمی مغفرت فرمائے۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد



________________________________
1 -   مرآۃالمناجیح ،۲‏ / ۲۶۴۔