کی نشانیوں میں سےایک نشانی ہے۔ کیونکہ ہمارا اور ہم سے پہلے لوگوں کا مشاہدہ ہے کہ جوبھی دین میں سختی کر تے ہیں اُن کے اَعمال اُن سے منقطع ہوجاتے ہیں ۔ خیال رہے کہ حدیث مذکور میں عبادات کو کامل طریقوں سےاَدا کرنے کی ممانعت نہیں کیونکہ یہ تو قابل تعریف ہے۔منع تو ایسےعمل سے کیا گیا ہے جو اُکتاہٹ یا فرائض وواجبات کے ترک کی طرف لےجائےیا اس کی وجہ سے فرض نماز کا وقت نکل جائے۔ جیسے کوئی شخص پوری رات نوافل پڑھتا رہے اور رات کے آخری حصے میں نیند کاغلبہ ہو جائے اور فجر کی جماعت نکل جائے یاوقت ہی نکل جائے۔اور خوش رہویعنی اس عمل پرثواب کی خوشخبری ہے جو ہمیشہ کیا جائے اگرچہ تھوڑا ہو۔ خوشخبری سےمرادیہ ہے کہ جوشخص کامل طورپرنیک عمل کرنے سےعاجز ہواوروہ عجز اس کی اپنی طرف سے نہ ہوتو اس سے ثواب میں کمی نہیں آتی۔ ‘‘ (1)
میانہ روی مقصودتک پہنچاتی ہے:
میانہ روی اختیار کرو تم اپنے مقصد کو پا لو گے۔یعنی تم اپنے مقصودتک یااللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا والے اَعمال تک میانہ روی ہی کے ذریعے پہنچو گےاور اللہ عَزَّ وَجَلَّ تم سے چاہتاہے کہ وہ تمہارے اَعمال قبول فرمائے، تم سے راضی ہوجائے اورتمہیں جنت الفردوس میں داخل فرما دے۔لہٰذاتمہیں چاہیے کہ میانہ روی اختیار کرو۔ ‘‘ (2)
دین اسلام میں سختی نہیں :
مُفَسِّر شَہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’ اسلام آسان دین ہے۔ اس میں یہودیت کی طرح سختیاں نہیں کہ اُن کے ہاں ترکِ دنیاعبادت تھی ہمارے ہاں دنیاداری بھی عبادت ہے کہ سنتِ رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمہے۔ ربّ فرماتا ہے: ( یُرِیْدُ اللّٰهُ بِكُمُ الْیُسْرَ ) (پ۲، البقرۃ:۱۸۵) ( ترجمہ ٔ کنزالایمان: اللہ تم پرآسانی چاہتاہے۔) جو شخص غیرضروری عبادت کو اپنے لیے ضروری بنالے وہ مغلوب ہوکر تھک کررہ جاوےگا اورپھرگناہگارہوگا۔مثلاً کوئی عمر بھر روزے رکھنے کی
________________________________
1 - فتح الباری،کتاب الایمان، باب الدین یسر۔۔۔الخ،۲ / ۸۸،تحت الحدیث: ۳۹۔
2 - الحدیقۃ الندیۃ،۱ / ۲۰۳۔