اَدیان سے آسان ہے۔ اس لیےکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اس اُمَّت سے ان تمام تنگیوں کو دور کردیا جو پہلی اُمَّتُوں پر تھیں ۔جیساکہ وہ مٹی سے ( تیمم کے ذریعے) طہارت حاصل نہیں کرسکتے تھے ، کپڑے پرجس جگہ نجاست لگ جاتی اسے کاٹنا پڑتا تھا ، توبہ کے قبول ہونے کےلیے اپنے آپ کو قتل کرنا پڑتا تھااور اس جیسی دیگر سختیا ں بھی تھیں ۔ پس اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اپنے لطف و کرم سے اس اُمَّت پر رحم فرماتے ہوئے اُن تمام سختیوں کو دُور فرما دیا۔ اللہعَزَّوَجَلَّارشادفرماتاہے: ( وَ مَا جَعَلَ عَلَیْكُمْ فِی الدِّیْنِ مِنْ حَرَجٍؕ- ) (پ۱۷، الحج:۷۸) (ترجمہ ٔ کنز الایمان:اور تم پردین میں کچھ تنگی نہ رکھی) ۔ ‘‘ (1)
میانہ روی منزلِ مقصود تک پہنچاتی ہے :
عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’ علامہ کرمانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی الفاظ ِحدیث کے مطالب بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’ سیدھی راہ چلو۔یعنی قول وفعل میں سیدھی راہ پر رہو ، میانہ روی اختیار کرو۔یعنی تم نفلی عبادات میں ( اپنی جانوں پر) اتنی سختی نہ کروکہ اکتا ہٹ کاشکارہوکرنیک اعمال سے دور ہو جاؤاور حد سے بڑھنےوالوں میں شامل ہوجاؤ۔خبردار!حد سے نہ بڑھو، درمیانی راہ اختیار کرو، تم منزلِ مقصود تک پہنچ جاؤگے۔اپنے تمام اوقات عمل میں نہ گزاروبلکہ نشاط کے اوقات کو غنیمت جانواور وہ دن کا پہلا اور آخری حصہ اور رات کا کچھ حصہ ہے اوراپنی جانو ں پر رحم کر و اور اِن اوقات کے علاوہ آرام کرو تاکہ ہمیشگی سے عبادت کر سکو ۔ ‘‘ (2)
دین میں ملنے والی نرمی اختیار کرو:
عَلَّامَہ حَافِظ اِبنِ حَجَر عَسْقَلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں : ’’ جو دین میں سختی اختیار کرتا ہے دین اس پر غالب آجا تا ہے۔یعنی جو شخص اعمالِ دینیہ میں نرمی کو چھوڑ کر ان کی گہرائی میں جانے کی کوشش کرتا ہے وہ عاجز آکر عمل چھوڑ دیتا ہے۔ حضرت سَیِّدُنَا ابن منیر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : ’’ یہ فرمانِ عالی نبوت
________________________________
1 - عمدۃ القاری،کتاب الایمان، باب الدین یسر،۱ / ۳۴۸، تحت الباب۔
2 - عمدۃ القاری،کتاب الرقاق، باب القصد والمداومۃ۔۔۔الخ،۱۵ / ۵۴۱،تحت الحدیث: ۶۴۶۳ملتقطا۔