حدیث پاک کی باب سے مناسبت:
اس حدیث پاک میں اس بات کا بیان ہے کہ ہرچیز کی گہرائی میں جانے اور اور کسی معاملے میں حد سے زیادہ بحث کرنا منع ہے یعنی میانہ روی کا درس دیا گیا ہے، یہ باب بھی چونکہ عبادات میں میانہ روی کا ہے اس لیے علامہ نووی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے یہ حدیث پاک اس باب میں بیان فرمائی ہے۔
تین بار ارشاد فرمانے کی وجہ:
عَلّامہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافَعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’ غلو وتکلف کرنے والے ہلاک ہو گئے ہیں ۔ ‘‘ حضوراکرمصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم نےغلو وتکلف سے روکنے کے لیے یہ جملہ تین بارتاکیداً ارشاد فرمایااورآپصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم کی یہ عادت مبارکہ تھی کہ جب کوئی بات کہتےتواسےتین بار ارشاد فرماتےتاکہ سامنے والاسمجھ جائے۔ ‘‘ مُتَنَطِّعُوْنَ، مُتَنَطِّعٌکی جمع ہے۔حضرت سَیِّدُنَا علّامہ خطّابی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْھادِیفرماتے ہیں : ’’ ہرچیز کی گہرائی میں جانے والے اور کسی بارے میں حد سے زیادہ بحث کرنے والے کومُتَنَطِّعکہتے ہیں ۔ اہل کلام کے نزدیکمُتَنَطِّع سے مراد وہ لوگ ہیں جو بے فائدہ کام میں دخل اندازی کریں اور ایسی چیز میں غور و خوض کریں جس تک اُن کی عقلیں نہیں پہنچ سکتیں ۔ ‘‘ (1)
گفتگومیں تکلف کرنے کی ممانعت:
اَشِعَّۃُ اللَّمْعَاتمیں ہے: ’’ یہاں گفتگو میں تکلف کرنا اورعمدًافصیح بننا مرادہےیعنی عبارت والفاظ میں بناوٹ، تصنُّع اور رِیاسے کام لینااور بناوٹی گفتگو سے لوگوں کوجال میں پھانسنااور گفتگومیں اس بات کا خیال نہ رکھنا کہ معنیٰ حق ہے یا نہیں ، بات درست ہے یا نہیں ۔ ‘‘ (2)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
________________________________
1 - دلیل الفالحین، باب فی الاقتصاد فی العبادۃ،۱ / ۳۸۸، تحت الحدیث: ۱۴۴۔
2 - اشعۃ اللمعات،کتاب الآداب، باب البیان والشعر،۴ / ۶۰۔