Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
432 - 662
کی جائے بلکہ اچھا گمان رکھا جائے۔
(1)	اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی محبت اوراُس کےشکرمیں کی جانے والی  عبادت، عاقبت کےخوف  سے  کی جانے والی عبادت  سےافضل ہے۔
(2)	قرآن وحدیث کاعلم حاصل کرنا چاہیے تاکہ اُس کی روشنی میں صراطِ مستقیم پر چلتے ہوئے جنت تک پہنچ جائیں ۔
(3)	اپنی غِذاورآرام کا بھی خیال رکھنا چاہیے تاکہ عبادتِ الٰہی پر قوت  حاصل  ہو۔ 
(4)	اَمْرٌ بِالْمَعْرُوْف وَنَھْیٌ عَنِ الْمُنْکَر  کے آداب میں سے یہ بھی ہے کہ  حتی الامکان لوگوں کے شُبہات دُور کیے جائیں ۔ 
اللہ عَزَّ  وَجَلَّسےدعاہےکہ وہ ہمیں ہرمعاملے میں اعتدال اورمیانہ روی سےکام لینےکی توفیق عطا فرمائے اورسنت کےمطابق  زندگی گزارنے کی سعادت عطافرمائے۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
              حدیث نمبر:144 			
غُلُوّ کی مَذَمَّت
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍرَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ  قَالَ:ہَلَکَ الْمُتَنَطِّعُوْنَ  قَالَہَا ثَلَاثًا. (1)  
 (  قَالَ النَّوَوِی  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی:)  اَ لْمُتَنَطِّعُوْنَ :اَلْمُتَعَمِّقُوْنَ الْمُشَدِّدُوْنَ فِی غیْرِمَوْضِعِ التَّشْدِیْدِ.
ترجمہ :حضرتِ سَیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ  حضورنبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے تین مرتبہ ارشادفرمایا:  ’’ غلوو تکلف کرنے والے  ہلاک  ہو گئے۔ ‘‘ 
 (امام نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں :) اَلْمُتَنَطِّعُوْنَسے مراد وہ لوگ ہیں  جو معاملے کی گہرائی میں پڑتے ہیں اور جہاں شدت کی حاجت نہ ہو وہاں شدت کرتےہیں ۔



________________________________
1 -   مسلم، کتاب العلم، باب ھلک المتنطعون،ص۱۴۳۴،حدیث: ۲۶۷۰۔