Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
431 - 662
 کہ وہ اپنے شیخ کو حقارت کی نظر سے نہ دیکھے اگر اُن کی عبادت میں کمی پائے تواپنی طرف سے کوئی عذر بیان کرے اور اگر اپنے نفس کو شیخ پر اِنکار کرتا ہوا پائے تو اسے سمجھائے کیونکہ جو اپنے شیخ پر اعتراض کرے وہ کبھی فلاح نہیں پاتا۔آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا کم عبادت کرنا اُمَّت پر رحم اور شفقت کرنے کے سبب تھاتاکہ وہ مشقت میں نہ پڑیں کیونکہ انسان کے اپنی جان پر حقوق ہیں اور اہل وعیا ل کے حقوق ہیں ۔اسی ‏لیے اللہ عَزَّ  وَجَلَّنے انسان کو کھانے کا محتاج بنایا ہے تاکہ  عبادت پر قوت حاصل ہو اورمَردوں کے ‏لیے عورتوں کا ہونا ضروری ہے تاکہ نسلِ انسانی باقی رہے اور اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے بندوں میں اضافہ ہو اور اپنے دین کو محفوظ  کرے،  ان  (بیویوں )  پر خرچ کرے تاکہ  اس پر اسے اجر دیا جائے۔ ‘‘  (1)  
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
مدنی گلدستہ
 ’’ فَیْضَانِ عَطَّار ‘‘ کے9حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے9مدنی پھول
(1)	میانہ روی اِستقامت کی کنجی ہے۔
(2)	قرآن وحدیث کاعلم حاصل کرنے کےساتھ بزگانِ دین کےاَحوال سےبھی واقف ہوناچاہیے کیونکہ اُن کی سیرت  کی روشنی میں قرآن وحدیث پرعمل کرنا کامیابی کی علامت ہے۔
(3)	کثرت سےنعمتوں کا اِستعمال بھی غفلت کاسبب ہے اِس لیے اعتدال سے کام لیناچاہیے۔
(4)	انبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَاماپنی عاقبت کےخوف  سے نہیں اَحکام الٰہی کی بجا آوری  اور شکر  ادا کرنے کے ‏لیے  عبادت کرتے ہیں کیونکہ وہ گناہوں سےپاک ہیں اور ان کی عاقبت اچھی ہی اچھی ہے بلکہ انہی کے صدقے دوسروں کا انجام اچھا ہو گا ۔
(5)	اگربزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن کےاعمال میں بظاہر کمی  محسوس ہو تو اس کمی کی نسبت ان کی طرف  نہ 



________________________________
1 -   شرح الطیبی، کتاب الایمان ، باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ، ۱ ‏ / ۳۳۱، تحت الحدیث: ۱۴۵۔