تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْسے فرمایا: ’’ جب میں سب سے زیادہ اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرتاہوں اورسب سے بڑا متقی ہوں تو پھرتم یہ کیسے سمجھ سکتے ہو کہ میں اطاعت و عبادت میں کم ہوں ؟ ‘‘ (1)
حضور عَلَیْہِ السَّلَام کے نفلی روزے:
اللہ عَزَّ وَجَلَّکے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:”میں (نفلی) روزے رکھتا بھی ہوں اور چھوڑ تا بھی ہوں ۔“یعنی جب میرے لیے یہ بات ظاہر ہوجائے کہ بغیرکسی تکلف کے روزہ رکھ لوں تورکھ لیتاہوں ۔جیسا کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنے اہل میں سے کسی کے پاس تشریف لے جاتے اور استفسار فرماتے: ’’ کیا آج تمہارے پاس کھانے کو کچھ ہے؟ ‘‘ اگر وہ کہتے: ’’ نہیں ۔ ‘‘ تو ارشاد فرماتے: ’’ میں روزہ سے ہوں ۔ ‘‘ نیز اللہ عَزَّ وَجَلَّنےآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو حکم دیاکہ آپ یوں فرمائیں : (وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِیْنَ (۸۶) ) (پ۲۳، ص:۸۶) ( ترجمہ ٔ کنزالایمان:اور میں بناوٹ والوں میں نہیں ) اور سیِّدُ الْمُبَلِّغِیْن، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ میں روزے چھوڑتا بھی ہوں ۔ ‘‘ آپ کے روزہ چھوڑنے کامعاملہ بھی ایساہی تھا ۔ (2) (یعنی نفلی روزہ رکھنے میں تکلف ظاہر ہوتا تو روزہ نہ رکھتے ۔)
مُرید کے لیے اِحتیاط:
اِمَام شَرَفُ ا لدِّیْن حُسَیْن بِنْ مُحَمَّد طِیْبِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی حدیث پاک کے الفاظ: ” گویاصحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی عبادت کو کم جانا“ کی شرح میں فرماتے ہیں : ’’ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کا گمان تھا کہ حضورنبی اکرم نورِمُجَسَّم شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بہت زیادہ وظائف و عبادت کرتے ہوں گے۔ لیکن جب آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی عبادت کے بارے میں سنا تو وہ اُن کے اندازے سے کم تھی تو انہوں نے ادب کو ملحوظ رکھتے ہوئےاُس کی نسبت کمی کی طرف نہ کی بلکہ اسے حضور کا کمال سمجھااور حضور کے مقابلے میں اپنے آپ کو ملامت کی۔ اس حدیث میں مرید کے لیے سبق ہے
________________________________
1 - الحدیقۃ الندیۃ، ۱ / ۱۹۵۔
2 - الحدیقۃ الندیۃ، ۱ / ۱۹۵۔