تِرے خُلْق کو حق نے عظیم کہا، تِری خِلْق کو حق نے جمیل کیا
کوئی تجھ سا ہوا ہے نہ ہوگا شہا، ترے خالقِ حسن و اَدا کی قسم
نجد کی وضاحت اور غیب کی خبر:
حدیث میں نجد کا تذکرہ ہے، اِس کے تحت مرآۃ المناجیح میں ہے: ’’ نجدکےلفظی معنی ہیں اونچی زمین۔اصطلاح میں عرب کے ایک مشہور صوبہ کا نام نجدہے۔ عرب کے پانچ صوبے ہیں ، حجاز، عراق، بحرین ، نجد، یمن۔چونکہ نجد کی زمین حجاز سے اونچی ہے، اِس لیے اِسے نجد کہتے ہیں ۔وسیع راستہ کو نجد کہا جاتا ہے۔نجدکا علاقہ تِہَامہ اور عراق کے درمیان ہے۔ ‘‘ (1) نجد (موجودہ ریاض) کے بارے میں غیب دان نبی اَکرم نورِمُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے غیب کی خبر دیتے ہوئے فرمایا: ’’ ھُنَاکَ الزَّلازِلُ وَالْفِتَنُ، وَ بِھَا یَطْلُعُ قَرْنُ الشَّیْطَانِیعنی نجد سے فتنے اٹھیں گے اور اُسں سے شیطان کا گروہ نکلے گا۔ ‘‘ (2)
رسول اللہ کی عَطاؤں کا طلبگار:
مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّاناس حدیث کے تحت فرماتے ہیں : ’’ (اعرابی نےکہا:آپ بہترین پکڑ فرمانے والے ہو جائیے۔) یعنی آپ مجھے اس حرکت کا بہترین بدلہ دیجئےکہ خطا میں نے کرلی ہے، عطا آپ کردو۔گناہ میں نے کرلیا، معافی آپ دےدیجئے، جس لائق میں تھا وہ میں نے کرلیا، جو آپ کی شان عالی کے لائق ہے وہ آپ کرو۔ پھل والے درخت کو پتھر مارتے ہیں تو وہ اُن پر پھل گراتا ہے۔ ( میں وعدہ کرتا ہوں کہ آئندہ نہ کبھی آپ سے لڑ وں گا اور نہ ہی آپ سے لڑنے والوں کا ساتھ دوں گا) یعنی میں منافق نہیں ہوں کہ دل میں کفر رکھوں اور زبان سے کلمہ پڑھ دوں ، ہاں اتنا وعدہ ہے کہ کبھی آپ سے مقابل نہ آؤں گا، آپ کے سامنے میری آنکھ نہ اُٹھے گی۔ (پس آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اسے چھوڑ دیا) یعنی اس سے فرمایا :جا! تجھے اجازت ہے، ہم تجھےمعافی دیتے ہیں ۔حضور (صَلَّی
________________________________
1 - مرآۃالمناجیح،۷ / ۱۱۹ملتقطا۔
2 - بخاری،کتاب الفتن ، باب قول النبی: الفتنۃ من قبل المشرق،۴ / ۴۴۱، حدیث: ۷۰۹۴۔