انہیں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی عبادت کے بارے میں بتایا گیاتو گویا وہ اُسے کم سمجھے۔اس کی وجہ یہ تھی کہ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کا اعتقادتھاکہ سرکارِ دوعالَم نورِمُجَسَّم شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بہت کثرت سےعبادت کرتے ہیں اورصحابۂ کرام اپنی رائے میں عبادت میں کثرت اور اپنی جانوں پر سختی کرنے ہی کوکامل عبادت گمان کیاکرتےتھے۔لیکن جب انہیں حضورنبی رحمت شفیع اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی عبادت کے بارے میں کمی کا گمان ہواتواس کی وجہ خود ہی بیان کرتے ہوئے کہنے لگے کہ ہم اپنے آپ کو رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی معصوم ہستی پرقیاس نہیں کرسکتے، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا اپنےربّ کے ساتھ قربتِ خاص کاجومعاملہ ہے ہم اس سے خالی ہیں ۔اس لیے بارگاہِ الٰہی میں ہماری اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی عبادت کا معاملہ جدا ہے۔آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی شانِ عظمت تو یہ ہے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّ نے آپ کے صدقے آپ کے اگلوں ، پچھلوں کے گناہ بخش دیے ہیں ۔ ‘‘ (1)
علم و معرفت والے ہی اللہسےڈرتے ہیں :
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب دانائے غیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماُن صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کے پاس تشریف لائے اور استفسار فرمایا: ’’ کیا تم لوگوں نے ایساایساکہاہے؟ ‘‘ پھر ان کے جواب کاانتظار کیے بغیر بیانِ حق میں جلدی کرتے ہوئےفوراً قسم کے ساتھ ارشادفرمایا: ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم !میں تم سب سے زیادہ اللہ عَزَّ وَجَلَّسے ڈرنے والا ہوں ۔کیونکہ خوف علم کے تابع ہے (یعنی جتنا علم زیادہ اتناخوف زیادہ) ۔جیسا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کافرمان ہے: ( اِنَّمَا یَخْشَى اللّٰهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰٓؤُاؕ-) (پ۲۲، فاطر:۲۸) ( ترجمہ ٔ کنزالایمان: اللہ سے اس کے بندوں میں وہی ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں ۔) یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ذات کا علم و معرفت رکھنے والے ہی اللہ عَزَّوَجَلَّسے ڈرتے ہیں اوررحمت عالَم نورِمُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ساری مخلوق سے بڑھ کر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی معرفت رکھتے ہیں لہٰذا آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمساری مخلوق سے زیادہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے ڈرنے والے ہیں ۔حضورِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ میں تم سب سے زیادہ تقوے والا ہوں ۔یعنی گویاکہ آپ صَلَّی اللہُ
________________________________
1 - الحدیقۃ الندیۃ، ۱ / ۱۹۴۔