Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
428 - 662
 دائمی عمل اگرچہ تھوڑا  ہو اُس کثیر عمل سے بہتر ہے جو منقطع ہوجائے۔ اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا مقام یہ ہے کہ آپ  عبادت ِالٰہی بطورِ شکر کرتے ہیں ،  عاقبت کے خوف  سے نہیں  کیو نکہ آپ گناہو ں سے محفوظ ہیں ۔ ‘‘  (1) 
نیک لوگوں کی پیروی:
عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ ذِی الْجَلَال فرماتے ہیں :  ’’ حدیث مذکور میں عبادت میں ائمہ کرام  کی اقتداء کرنے، اُن کے احوال اور اُن کے شب وروز گزارنے کے طریقے میں غور وفکر کرنے کا ذکر ہے کہ جن ائمہ کرام کو اللہ عَزَّ  وَجَلَّنے دین اور عبادات کے معاملے میں مقتدا بنایا ہے ان کے طریقے سے تجاوز نہیں کر نا چاہیے۔جو اُن کے طریقےسے آگے بڑھنے کی کوشش کرے تو وہ حد سے بڑھنے والا ہےاور عبادت میں میانہ روی  اختیار  کرنا  بہتر  ہے تاکہ عمل سے عاجز نہ آئے اور   عبادت  بھی منقطع نہ  ہو۔حضور اکرم نورِمُجَسَّم شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا  فرمانِ عافیت نشان ہے  کہ بہترین عمل وہ ہے جسے کرنے والا ہمیشہ کرے اگر چہ  تھوڑا ہو ۔ ‘‘  (2)  
حضور عَلَیْہِ السَّلَام  کا بارگاہ ِالٰہی میں قُربِ خاص:
عَارِف باللّٰہ حضرت علامہ عبد الغنی نابلسی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’ حدیثِ مذکور میں بیان ہواکہ بعض صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ اَزواجِ مطہرات رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ سے حضور نبی  کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اس زائد عبادت کی کیفیت کےبارے میں دریافت کرنے کے ‏لیے حاضر ہوئے جوآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنے  گھر پر دن یارات میں بجالاتے تھے اورصحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کواس کاعلم نہ تھاکیونکہ غالب طورپرانسان کے پوشیدہ معاملات پراس کی زوجہ سے زیادہ کوئی اور  مطلع نہیں ہوتا۔اسی لیےصحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان ازواجِ مطہرات رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے۔ جب 



________________________________
1 -   ارشادالساری ،کتاب النکاح، باب الترغیب   فی النکاح،۱۱ ‏ / ۳۸۴ ،تحت الحدیث: ۵۰۶۳ملخصا۔
2 -   شرح بخاری لابن بطال ،کتاب النکاح، باب الترغیب   فی النکاح،۷ ‏ / ۱۶۰۔