Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
427 - 662
 نازل ہوئی ہےاور حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےدونوں اُمور (نرمی ا ورسختی) پر عمل کیا ہے۔ حق یہ ہے کہ دُنیاوی لذتوں پر ہمیشگی اختیارکرنا عیش و عشرت اور تکبر کی طرف لے جاتا ہے اور ایساشخص شُبہات میں پڑنے سے نہیں بچ سکتا کیونکہ جوعیش وعشر ت کاعادی ہو  اگراسےکبھی مطلوبہ اشیاء میسر نہ ہوں تو ہوسکتا ہے کہ وہ اُن کے بغیر نہ رہ سکےاور کسی گناہ میں مبتلاہوجائے اور اسی طرح کبھی  دنیاوی  مباح لذتوں سے روکنا غلو  کی  طرف لے جاتاہے اوراس کی ممانعت ہے۔جیسا کہ قرآن مجید میں  اللہعَزَّوَجَلَّ ارشادفرماتاہے: ( قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِیْنَةَ اللّٰهِ الَّتِیْۤ اَخْرَ جَ لِعِبَادِهٖ وَ الطَّیِّبٰتِ مِنَ الرِّزْقِؕ- )  (پ۸، لاعراف:۳۲)  (ترجمہ ٔ کنزالایمان: تم فرماؤ (اے نبی!) کس نے حرام کی اللہ کی وہ زینت جو اس نے اپنے بندوں کے ‏لیے نکالی اور پاک رزق۔)  اسی طرح  عبادت میں شدت  اختیار کرنا ایسے ملال  کی  طرف لے جاتا ہےجواصل عبادت اور فرائض میں میانہ روی کو ختم کر نے کا سبب ہے۔اورنفلی عبادت کو چھوڑنےسے عبادت میں نشاط ختم ہوجاتاہے۔ الغرض  بہترین اُموروہ ہیں جن میں میانہ روی اختیار کی جائے ۔ ‘‘  (1)  
خوفِ الٰہی کثیر عبادت سے  افضل:
علامہ شہاب الدین احمد قسطلانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں :حضور نبی رحمت شفیع اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو تمام مخلوق سے زیادہ عبادت کرنے کی طا قت دی گئی تھی لیکن آپ کا مقصد شریعت سازی اور اُمَّت کوایسے طریقے کی  تعلیم دینا تھا جس سے عبادت کرنے والاملال اور اکتاہٹ کا شکارنہ ہو۔حضرت  سَیِّدُنَا علامہ ابن مُنیر عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْزفرماتے ہیں :صحابٔہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان یہ سمجھے کہ خوف ہی عبادت  پر اُبھارتا ہے اور عبادت عذابِ آخرت کے خوف پرمنحصر ہےاور انہیں  معلوم تھا کہ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممغفرت یافتہ ہیں ،  تو انہوں نے آپ کی عبادت کی کم مقدار کو اس پر محمول کیا کہ آپ کو زیادہ عبادت کی ضرورت نہیں ۔ پس آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اُن  کے اِس خیال کا رد  کرتے ہوئے فرمایا کہ  اللہ عَزَّ  وَجَلَّکے جلال کا خوف،  اُس کثیر عبادت  سے افضل وعظیم ہے جو منقطع ہونے والی ہے کیونکہ



________________________________
1 -   فتح الباری،کتاب النکاح، باب الترغیب   فی النکاح،۱۰‏ / ۹۱،تحت الحدیث: ۵۰۶۳ملخصًا۔