اُسے پورا نہ کر سکےاورحضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا طریقہ معتدل ہونے کے ساتھ نرمی وآسانی والابھی ہے۔آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم (نفلی ) روزے مسلسل نہ رکھتے، بلکہ کبھی رکھتے کبھی چھوڑ دیتے تاکہ آئندہ روزے رکھنے پر طاقت حاصل ہو۔ رات کو کچھ دیر آرام بھی فرماتے تاکہ رات کے قیام پر قوت حاصل ہو اورآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے کئی حکمتوں کے پیشِ نظر نکاح بھی فرمایا۔آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے فرمان”وہ مجھ سے نہیں ہے۔“ کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی نے کسی تاویل سے میرے طریقے کو چھوڑا تو وہ میرے طریقۂ محمودہ پرنہیں ہے اور اگر اس بناپرچھوڑاکہ وہ اپنےعمل کوزیادہ راجح سمجھتاہےتو وہ میری ملت پر نہیں ہے کیونکہ اُس کا یہ اِعتقاد کفر ہے۔ ‘‘ (1)
حدیثِ پاک سےثابت ہونے والے اَحکام:
(1) حدیثِ مذکور میں نکاح کی فضیلت اوراس کی ترغیب کا بیان ہے۔ (2) اپنے اکابرین کے احوال کی خبر رکھنی چاہیے تاکہ اُن کی اِتباع کی جاسکے۔اگرخو د اُن سے معلوم نہ ہو سکے تو اُن کے متعلقین سے پوچھ لیناچاہیے۔ (3) اگرریاکاری کا اندیشہ نہ ہو تو اپنے اچھے اعمال بیان کرنا جا ئز ہے۔ (4) لوگوں کو مسائل کی تعلیم دینے مکلفین کے اَحکام بیان کرنے اور لوگوں کے شبہات زائل کرنے سے پہلے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی حمد و ثنا کرنی چاہیے۔ (5) مباح کام حسنِ نیت سے مستحب ہوجاتا ہے اور کبھی حسن نیت کے بغیر مکروہ ہوجاتا ہے۔ (6) امام طبریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں :اس حدیث میں اُن زاہدین کا رد ہے جو اچھے کھانوں اور اچھے لباس سے منع کرتے ہوئے موٹے کپڑے پہنتے اور سخت غذا کھاتے ہیں ۔ (7) حضرت سَیِّدُنَاقاضی عیا ض عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَہَّاب فرماتے ہیں : اس میں سلف وصالحین کے احوال مختلف ہیں ، اِن میں سے بعض کا وہی نظریہ ہے جس کی طرف امام طبری (رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ) نے اشارہ کیا ہےاور بعض نےاس کےبرخلاف کہا ہے، ان کی دلیل اللہ عَزَّوَجَلَّ کا یہ فرمان ہے: (اَذْهَبْتُمْ طَیِّبٰتِكُمْ فِیْ حَیَاتِكُمُ الدُّنْیَا ) (پ۲۶، الاحقاف:۲۰) (ترجمہ ٔ کنزالایمان: تم اپنے حصّہ کی پاک چیزیں اپنی دنیا ہی کی زندگی میں فنا کرچکے۔) لیکن حق بات یہ ہےکہ یہ آیت کفارکے بارے میں
________________________________
1 - فتح الباری،کتاب النکاح، باب الترغیب فی النکاح،۱۰ / ۹۱،تحت الحدیث: ۵۰۶۳ملخصًا۔