بھی ہوں اور عورتوں سے شادی بھی کرتاہوں ۔ جس نے میری سنت سے منہ موڑاوہ مجھ سے نہیں ۔ ‘‘
وہ تین صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کون تھے ؟
عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِی فرماتے ہیں : ’’ ان تین صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے اسما ئے گرامی یہ ہیں : (1) امیر المؤمنین حضرت سَیِّدُنَاعلی المرتضی شیر خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِ یْم (2) حضرت سَیِّدُنَا عُثمان بن مَظْعُون رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُاور (3) حضرت سَیِّدُنَا عبد اللہ بن رَوَاحَہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ۔ اور ایک قول کے مطابق حضرت سَیِّدُنَا مِقداد بن اَسْوَدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ۔ ‘‘ (1)
سب سےزیادہ خوفِ خدا:
عَلَّامَہ حَافِظ اِبنِ حَجَر عَسْقَلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں : ’’ حضورنبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا:بے شک!میں تم سب سے زیادہ خوف خدا رکھنے والا اورتم سب سے زیادہ متقی ہوں ۔یعنی جو عبادت میں بہت زیادہ شدت کرتے ہیں میں ان سب سے زیادہ خوفِ خدا رکھنے والا اور سب سے زیادہ متقی ہوں کیونکہ بسا اوقات شدت کے ساتھ عبادت کرنے کی وجہ سے انسان اُ کتاہٹ وتھکاوٹ میں مبتلا ہوجاتا ہےبرخلاف اس کے جومیانہ روی سےعبادت کرےکیونکہ اس طرح وہ ہمیشہ عبادت کرسکتا ہےاور بہترین عمل بھی وہی ہے جس پر ہمیشگی اختیار کی جائے ۔ ‘‘ (2)
جس نے میری سنت سے منہ موڑا وہ مجھ سے نہیں :
حدیث مذکور میں ہے کہ جس نے میری سنت سے منہ موڑا وہ مجھ سے نہیں ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس نے میرے طریقے کو چھوڑکر میرے غیرکے طریقے کو اختیار کیا تو وہ مجھ سے نہیں ۔ اس ارشاد میں آپ نے رہبانیت کے رد کی طرف اشارہ فرمایا ہے ، کیونکہ عیسائی راہبوں نے اپنی طرف سے دین میں شدت ایجاد کی، جیسا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے قرآنِ مجید میں ان کی مذمت بیان کی کہ جس چیز کو انہوں نے اپنے اوپر لازم کیا تھا
________________________________
1 - مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الایمان ، باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ، ۱ / ۳۷۲، تحت الحدیث: ۱۴۵۔
2 - فتح الباری،کتاب النکاح، باب الترغیب فی النکاح،۱۰ / ۹۱،تحت الحدیث: ۵۰۶۳ملخصًا۔