Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
424 - 662
بے شمار بھلائیاں عطا فرمائے ۔  آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
     حدیث نمبر:143	 	  
اَعْمَالِ نَبوِی کی جُسْتْجُو
وَعَنْ اَ نَسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ:جَاءَ ثَلاَ ثَۃُ رَہْطٍ اِلَی بُیُوْتِ اَزْوَاجِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ،  یَسْاَلُوْنَ عَنْ عِبَادَۃِ النَّبیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا اُخْبِرُوْا کَاَ نَّہُمْ تَقَا لُّوْہَا وَقَالُوْا:اَ یْنَ نَحْنُ مِنَ النَّبیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قدْ غُفِرَ لَہُ مَاتَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہِ وَمَا تَاَخَّرَ. قَالَ اَحَدُہُمْ:اَمَّااَنَا فَاُصَلِّی اللَّیْلَ اَبَداً،  وَ قالَ الْاٰخَرُ: وَاَنَا اَصُوْمُ الدَّہْرَ وَلَا اُفْطِرُ،  وَقَالَ الْآخَرُ: وَاَ نَا اَعْتَزِلُ النِّسَاءَ فَلاَ اَ تَزَ  وَّجُ اَبَداً،  فَجَاءَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِلَیْہِمْ فَقَالَ:اَنْتُمُ الَّذِیْنَ قُلْتُمْ کَذَا وَکَذَا؟ اَمَّا وَاللّٰہِ!اِنّیِ لَاَ خْشَاکُمْ لِلّٰہِ وَاَتْقَا کُمْ لَہُ لٰکِنِّی اَصُوْمُ وَاُفْطِرُ، وَاُصَلِّی وَاَرْقُدُ، وَاَ تَزَ  وَّجُ النِّساءَ،  فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِیْ فَلَیْسَ مِنِّی .  (1) 
ترجمہ :حضرتِ سَیِّدُنا اَنس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ تین صحابۂ کرام  عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان حضور نبی  اکرم نورِمُجَسَّم شاہِ بنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی عبادت کے بارے میں پوچھنے کے ‏لیے اَزواجِ مطہرات رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّکے گھر کی طرف آئے۔جب انہیں اس بارے میں بتایا گیا تو گویا کہ انہوں نےآپ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی عبادت کو تھوڑا سمجھا۔کہنے لگے: ’’ ہم کہاں اور سرکارِ دوعالم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا مرتبہ کہاں ؟  آپ کے سبب تو آپ کے اگلوں پچھلوں کے گناہ معاف کردیے گئے۔ ‘‘ پھر اُن میں سے ایک نے کہا: ’’ میں ہمیشہ رات بھر نماز پڑھا کروں گا۔ ‘‘ دوسرے نے کہا:  ’’ میں ہمیشہ روزہ رکھوں گااورکبھی نہیں چھوڑوں گا۔ ‘‘ تیسرے نے کہا:  ’’ میں عورتوں سے علیحدہ رہوں گا، کبھی شادی نہیں کروں گا۔ ‘‘  حضور نبی رحمت شفیع اُمَّت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اُن کے پاس تشریف لائے اور ارشادفرمایا:  ’’ کیا تم لوگوں نے ایسا ایسا کہا ہے؟  سن لو!خدا کی قسم !میں تم میں سب سے زیادہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّسے ڈرنے والا ہوں اور سب سے زیادہ پرہیزگارہوں ۔لیکن پھر بھی  میں روزہ بھی رکھتاہوں اور افطار بھی کرتا ہوں ،  نمازبھی پڑھتا ہوں اور سوتا 



________________________________
1 -   بخاری،کتاب النکاح، باب الترغیب    فی النکاح،۳‏ / ۴۲۱،حدیث: ۵۰۶۳۔