Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
423 - 662
 ہی پڑھنے ہوں گے ۔لہٰذا حدیث کا یہ مطلب نہیں کہ اگر دو وقت کی نماز ہی پڑھ سکو تو اتنی ہی پڑھ لیا کرو۔ لہٰذا حدیث صاف ہے۔ واجبات و سنن ، فرائض کے تابع ہیں اُن کی پابندی لازم ہے ۔یعنی اگر تم خود ملال و مشقت والے کاموں کو اپنے اوپر لازم کرلو کہ روزانہ سو رکعت پڑھنے یا ہمیشہ روزہ رکھنے کی نذر مان لو تو تم پر یہ چیزیں واجب ہوجائیں گی پھر تم مشقت میں پڑ  جاؤ گے،  مگر یہ مشقت ربّ نے نہ ڈالی تم نے خود اپنے پر ڈالی۔ یہ معنی نہیں کہ ﷲ ملال میں نہیں پڑتا حتی کہ تم ملال میں پڑو،  ربّ تعالٰی ملال کرنے سے پاک ہے۔یہ حدیث دین ودنیاکےمشاغل کوشامل ہے،  درمیانی محنت کرنے والے ہمیشہ کامیاب ہیں ۔ ‘‘  (1) 
مدنی گلدستہ
 ’’ غوث پاک ‘‘ کے6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھول
(1)	دائمی  قلیل عمل  عارضی  کثیر عمل سے  افضل  ہے۔
(2)	اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ہر طرح کے عجز وقباحت سے  پاک ہے ۔ 
(3)	بندہ چاہے کتنا ہی عمل کرلے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اُس کی جزا دینے پر قادر ہے،  کیونکہ ربّ تعالی کے خزانے لا محدود ہیں ۔
(4)	عبادت کےساتھ اپنےاہل وعیال کےحقوق کی پاسداری بھی ضروری ہے کہ  یہ بھی  عبادت ہے ۔ 
(5)	جن عبادتوں میں غلو کرنےسے منع کیا گیاہے ان سےمرادنوافل ومستحبات ہیں جبکہ فرائض و واجبات  تومشقت کی حالت میں بھی ادا کرنے ضروری ہیں ۔
(6)	بلا وجہ اپنے اوپر کسی سخت عمل کو لازم نہیں کرناچاہیے کہ بسا اوقات اس کی وجہ سے دیگر معاملات میں مشکلات پیدا ہوجاتی ہیں ۔
اللہ عَزَّ  وَجَلَّسےدعاہے کہ وہ  ہمارے تمام صغیرہ کبیرہ گناہوں کو معاف فرمائے،  ہمیں دین  ودنیا کی 



________________________________
1 -   مرآۃالمناجیح،۲‏ / ۲۶۳ ملخصاً۔