Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
422 - 662
ہے جو آدمی پابندی کے ساتھ بلاناغہ ہمیشہ کرے اگرچہ وہ تھوڑا ہی ہو ۔یہ مت وہم کرو کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے خزانے میں کوئی کمی ہے یا وہ اعمال کا ثواب دیتے دیتے تھک سکتا ہے،  یا گھبراسکتا ہےوہ ملال سے مُنَزّہ  (یعنی پاک ) ہے۔ تم جتنا زیادہ عمل کروگے اللہ (عَزَّوَجَلَّ ) اس کا تم کو ثواب دے گا۔اس حدیث سے ثابت ہوا کہ نوافل ومستحبات پر بھی پابندی اور مداومت اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کو پسند ہے،  اس ‏لیے میلاد مع قیام،  فاتحہ، عرس وغیرہ اُمورِ خیراگر کوئی بِلا ناغہ پابندی سے کرتاہے تویہ پابندی اسے ناجائزوحرام نہیں کردےگی بلکہ یہ مزید پسندیدگی کی باعث ہوگی۔ ‘‘  (1) 
آسانی  اور استقامت کی ترغیب :
شارحِ بخاری علامہ  سیدمحمود احمد رضوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’ مطلبِ حدیث یہ ہے کہ آدمی خواہ کتنی ہی نیکیاں کرے،  ربّ العزت جَلَّ مَجْدُہُ کو اس کی ان نیکیوں کے ثواب عطافرمانے میں کوئی دِقّت نہ ہوگی مگر اپنی طاقت سے زیادہ عمل کرنے والا بالآخر خود ہی  گھبرا جائے گااوراس کو جاری نہ رکھ سکے گا۔مفہوم حدیث یہ ہے کہ آدمی کو چاہیے کہ عبادت میں میانہ روی اختیار کرے اور اتنا ہی عمل کرے جس کو آسانی کے ساتھ ہمیشہ کرسکے کیونکہ تھوڑا عمل جو ہمیشہ کیا جائے وہ ا س عمل سے بہتر ہے جو انسان ہمیشہ نہ کرسکے کیونکہ زیادہ کے لالچ میں تھوڑے کو بھی چھوڑنے پر مجبور ہوجائے گا۔اسی کو امام غزالی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے مثال دے کر یوں سمجھایا ہے کہ جب پتھر پر پانی قطرہ قطرہ ٹپکتا ہے تو سوراخ کردیتا ہےبر خلاف یکدم اگر پانی گرجائے تو اثر تک بھی نہیں ہوتا۔ ‘‘  (2) 
اپنے اوپر  مشقت ڈالنے   سے بچو:
مُفَسِّرِشَہِیْر،  مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمفتی اَحمد یار خان نعیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں :  ’’ خیال رہے کہ یہ تمام کلام نفلی عبادات کے ‏لیے ہے کہ بقدر ِطاقت شروع کرو جو نِبھا سکو،  فرائض تو پورے



________________________________
1 -   نزہۃ القاری ،۱‏ / ۳۵۵۔
2 -   فیوض الباری، ۱‏ / ۲۴۲۔