چیزوں سے نفرت دلانےکے لیے ہو۔ (2) قلیل دائمی عمل کثیر عارضی عمل سے بہتر ہے ۔ (3) حدیثِ مذکور میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اپنی اُمَّت پر شفقت ونرمی کا بیان ہے۔آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنی اُمَّت کی اس چیز کی طرف رہنمائی فرماتے تھے جو ان کے لیے زیادہ بہتر ہوتی تھی۔ (1)
نیک اَعمال میں میانہ روی کی ترغیب:
عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’ حدیثِ مذکور میں عبادت میں میانہ روی اختیار کرنے کی ترغیب دلائی گئی ہے اورتنگی میں پڑنے سے منع کیا گیا ہے۔یہ حدیث نماز ہی کے ساتھ خاص نہیں ہے بلکہ تمام نیک اَعمال کو شامل ہے۔محققین علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ ا لسَّلام ُ فرماتے ہیں :معنی یہ ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ تم سے اکتانے والے شخص جیسا معاملہ نہیں کرتا کہ تم سےعمل کا ثواب وجزا ختم کر دے، یہاں تک کہ تم عمل کرنا چھوڑ دو۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا فضل اور اس کی رحمت بہت وسیع ہے۔ ‘‘ (2)
حضرت سیِّدُنا جابربن عبد اللہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سرکارِ مدینہ راحت قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمایک شخص کے پاس سے گزرے جو مکہ مکرمہ میں ایک چٹان پرنماز پڑھ رہاتھا ۔ واپسی پر بھی اسے اسی حالت میں پایا تو ارشادفرمایا: ’’ اے لوگو! تم پرمیانہ روی لازم ہے، اےلوگو! تم پر میانہ رَوِی لازم ہے، ا ے لوگو!تم پرمیانہ روی لازم ہے۔بے شک !اللہ عَزَّ وَجَلَّ (اجرعطافرمانے سے) نہیں اکتاتابلکہ تم (عبادت سے ) اُ کتا جاتے ہو۔ ‘‘ (3)
ربّ تعالٰی ملال سے پاک ہے:
فقیہ اعظم حضرت علامہ مفتی شریف الحق امجدی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ مطلب یہ ہے کہ یہ بات پسندیدہ نہیں کہ نوافل بکثرت پڑھنا شروع کردیا جائے پھر چھوڑ دیاجائے۔ بہت زیادہ پسندیدہ وہ کام
________________________________
1 - عمدۃالقاری،کتاب الایمان،باب احب الدین الی اللہ ادومہ،۱ / ۳۸۰، تحت الحدیث: ۴۳۔
2 - شرح مسلم للنووی، کتاب صلوۃ المسافرین وقصرھا، باب فضیلۃ العمل الدائم ۔۔۔الخ،۳ / ۷۱، الجزء السادس۔
3 - ابن ماجۃ، کتاب الزھد، باب المداومۃ علی العمل، ۴ / ۴۸۷، حدیث: ۴۲۴۱۔