سوتی نہیں تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےناپسندیدگی کااظہارفرمایا یہاں تک چہرۂ اَنور پر اس کے آثار ظاہر ہونے لگے۔ ان خاتون کا نام حضرت سَیِّدَتُنَا حولاءرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہاتھا۔ یہ بہت عبادت گزار اور مُہَاجِرہ صحابیہ تھیں ۔ ‘‘ (1)
اُکتاہٹ کا اطلاق ذات باری تعالی پرجائز نہیں :
عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی فرماتےہیں : ’’ مَلال ( اُ کتاہٹ ) کااطلاق اللہ عَزَّ وَجَلَّ پرجائز نہیں اور نہ ہی یہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی صفات میں داخل ہے کیونکہ ملال کا معنی ہے:کسی چیزکی چاہت اورحرص کے باوجود اس کے مشکل ہونے کی وجہ سے اسے نہ چاہتے ہوئے چھوڑدینااوریہ مخلوق کی صفت ہے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نہیں ۔حدیث مذکورمیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ پرملال کا اطلاق مجازًا ہے۔ ‘‘ (2)
عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ ذِی الْجَلَال فرماتے ہیں : ’’ اس سےمراد یہ ہے کہ تم لوگ نیک اَعمال کر کے اُ کتا جاؤ گےاللہ عَزَّ وَجَلَّ اجر عطا فرماتے ہوئے نہیں اُ کتائے گا ۔ ‘‘ حضرت سَیِّدُنَا اِبن فُورَکرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : ’’ مطلب یہ ہے کہ اُ کتانا تمہاری صفت ہے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نہیں ، کیونکہ اکتاہٹ، طبیعت کی تبدیلی کا نام ہے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس سے پاک ہے۔ ‘‘ حضرت سیِّدُناعلامہ خطّابیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْھَادِی فرماتے ہیں : ’’ اس کا ایک معنی یہ ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اُس وقت تک ثواب دینا ترک نہیں کرتا جب تک تم عمل کرنا نہ چھوڑدو۔ ‘‘ (3)
حدیث پاک سے ماخوذ چند مسائل:
شارحین کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام نے اس حدیث سے کئی اہم مسائل بھی اخذ فرمائے ہیں ، چند مسائل یہ ہیں : (1) بغیر طلب قسم کھانا بِلاکراہت جائز ہے جبکہ معاملے کو پختہ کرنے ، کسی کونیکی پر اُبھارنے یا ممنوعہ
________________________________
1 - عمدۃالقاری،کتاب الایمان،باب احب الدین الی اللہ ادومہ،۱ / ۳۷۷ ، تحت الحدیث: ۴۳ ملتقطا۔
2 - عمدۃالقاری،کتاب الایمان،باب احب الدین الی اللہ ادومہ،۱ / ۳۷۸، تحت الحدیث: ۴۳۔
3 - شرح بخاری لابن بطال، کتاب الایمان، باب احب الدین الی اللہ ادومہ،۱ / ۱۰۰۔