Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
42 - 662
سے کون بچائے گا؟  ‘‘ فرمایا : ’’ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ۔ ‘‘ یہ سنتے ہی اُس کے  ہاتھ سے تلوارگرگئی،  رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے تلواراُٹھاکر فرمایا: ’’ اب تجھے مجھ سے کون بچائے گا؟  ‘‘  اس نے کہا: ’’ آپ  بہترین پکڑ فرمانے والے ہو جائیے۔ ‘‘  آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : ’’ کیا تو اس بات کی  گواہی دیتا ہے کہاللہ عَزَّوَجَلَّ کے سوا کوئی معبود نہیں اورمیں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا رسول ہوں ؟  ‘‘  بولا:  ’’ نہیں ۔لیکن میں وعدہ کرتا ہوں کہ آئندہ کبھی آپ سے  نہ لڑوں گا اور نہ  آپ  سے لڑنے والوں کا ساتھ دوں گا۔ ‘‘ پس آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اُسے چھوڑ دیا ۔تو وہ اپنے ساتھیوں کے پاس چلاگیا اور کہا : ’’ میں ایسےشخص کے پا س سے آیا ہوں جو لوگوں میں سب سے  بہتر ہیں ۔ ‘‘ 
توکل کی اعلیٰ ترین مثال:
میٹھے میٹھےاسلامی بھائیو! مذکورہ حدیث پاک شہنشاہ مدینہ قرار قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی شجاعت وبہادری اور  توکلِ  خالص  کی اعلیٰ ترین مثال ہے  کہ طاقتور دشمن  تلوار ‏لیے سامنےہے اورتنِ تنہا ہونے کے باوجود نہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم خوفزدہ  ہوئے،  نہ ہی آپ پر  کچھ گھبراہٹ طاری ہوئی۔ آپ  کو اپنے ربّ کریم پر کامل بھروسہ تھا کہ  وہی  حافظ وناصر ہے ۔ربّ تعالٰی فرماتا ہے:
وَ اللّٰهُ یَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِؕ-  (پ۶،  المائدۃ:۶۷) 		 ترجمہ ٔ کنزالایمان: اور اللہ تمہاری نگہبانی کرے گا لوگوں سے۔
پس آپ نے اپنامعاملہ ربّ قدیرکےسپر د کرتے ہوئےجیسے ہی اُس کا  نام اَقدس لیاتواس مشرک  پر ہیبت طاری ہوگئی،  کانپنے لگا اور ڈر کے مارے تلوار  ہاتھ سے گر گئی۔آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے وہ تلواراُٹھالی۔اب وہ  مشرک بے بس ہو گیا۔ آپ چاہتے تو اُسے  سزادیتےمگرآپ  نےحِلم وبُردباری کامظاہرہ کرتے ہوئے ا ُسے کچھ نہ کہا،  بلکہ اُسے چھوڑ دیا۔ سُبْحَانَ اللہ ہمارے  پیارے نبی  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کیسے عظیم اَخلاق کے مالک تھے   ۔ اعلیٰ حضرت،  اِمامِ اہلسنت،  مُجَدِّدِدِین وملت پروانۂ شمع رسالت،  مولانا شاہ امام اَحمدرضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ  الرَّحْمٰنآپ کے اَخلاقِ کریمانہ  یوں بیان فرماتے ہیں :