Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
419 - 662
 ہٰذِہِ؟  قَالَتْ:ہٰذِہِ فُلَا نَۃٌ تَذْکُرُ مِنْ صَلَا تِہَا،  قَالَ:مَہْ عَلَیْکُمْ بِمَا تُطِیْقُوْنَ،  فَوَاللّٰہِ لَا  یَمَلُّ اللّٰہُ حَتَّی تَمَلُّوْا  وَکَانَ اَحَبُّ الدِّیْنِ اِلَیْہِ مَادَاوَمَ صَاحِبُہُ عَلَیْہِ. (1)  
	 (قَالَ النَّوَوِی  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی:)  وَ”مَہْ ‘‘  کَلِمَۃُ  نَہْیٍ وَزَجْرٍ ،  وَمَعْنَی: لَا یَمَلُّ اللّٰہُ،   اَیْ لَا یَقْطَعُ  ثَوَابَہُ  عَنْکُمْ وَجَزَاءَ اَعْمَالِکُمْ، وَیُعَامِلُکُمْ مُعَامَلَۃَ الْمَالِّ حَتَّی تَمَلُّوْا فَتَتْرُکُوْا، فَیَنْبَغِیْ لَکُمْ اَنْ تَاْخُذُوْا مَاتُطِیْقُوْنَ الدَّ وَامَ عَلَیْہِ لِیَدُوْمَ ثَوَابُہُ لَکُمْ وَفَضْلُہُ عَلَیْکُمْ.
ترجمہ :اُمُّ المؤمنین حضرتِ سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم نورِ مُجَسَّم شاہِ بنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  اُن کے پاس تشریف لائے،   (اُس وقت)  وہاں ایک عورت بھی موجودتھی۔آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے استفسار فرمایا: ’’ یہ کون ہے؟  ‘‘  اُمّ المؤمنین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے عرض کی:  ’’ یہ فلاں عورت ہے۔ ‘‘  اور پھر اُس کی نماز کا ذکر کیا۔آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے فرمایا:  ’’ رُک جاؤ! تم پر لازم ہے کہ اپنی طاقت کے مطابق عبادت کرو۔بخدا! اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نہیں اُ  کتاتا،  تم اُ  کتا جاؤ  گے اوراللہ عَزَّ  وَجَلَّ کو وہ عمل سب سے زیادہ پسند ہے جسے کرنے والاہمیشہ کرے۔ ‘‘ 
علامہ نووی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی الفاظ حدیث کے معانی بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :”مَہْ “یہ نہی اور زجر کے ‏لیے آتا ہے۔ ’’ لَا   یَمَلُّ اللہ:یعنیاللہ عَزَّ  وَجَلَّ نہیں اُ کتاتا۔ ‘‘ اس کا  مطلب ہے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ تم سے تمہارے اَعمال کا ثواب ختم نہیں کرتااور نہ ہی تمہارے اَعمال کی جزا منقطع کرتاہےاور وہ تم سےاُ  کتاہٹ والا معاملہ نہیں فرمائے گا، تم اُ  کتا کر عمل چھوڑدوگے۔ لہٰذا تمہارے ‏لیے یہی مناسب ہے کہ وہ عمل کرو جسے ہمیشہ کر سکو تاکہ اُس کا ثواب اور فضیلت تمہارے ‏لیے ہمیشہ رہے۔ ‘‘ 
حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی اُمَّت پر شفقت:
عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی فرماتےہیں :حضرت سَیِّدُنَا امام مالک عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْخَالِق فرماتے ہیں :  ’’ جب سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو بتایا گیا کہ یہ عورت  ساری ساری رات عبادت کرتی ہے



________________________________
1 -   بخاری، کتاب الایمان، باب احب الدین الی اللہ ادومہ،۱‏ / ۲۸، حدیث: ۴۳۔