(2) ربّ تعالی اپنےبندوں پرآسانی چاہتاہے
اللہ عَزَّ وَجَلَّ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:
یُرِیْدُ اللّٰهُ بِكُمُ الْیُسْرَ وَ لَا یُرِیْدُ بِكُمُ الْعُسْرَ٘- (پ۲، البقرۃ: ۱۸۵)
ترجمہ ٔ کنزالایمان:اللہ تم پر آسانی چاہتاہے اور تم پر دشواری نہیں چاہتا۔
تفسیرِخازن میں ہے : ’’ اس کامعنی یہ ہے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّاس عبادت (یعنی روزے) میں تم پرآسانی چاہتا ہے اوروہ آسانی مسافرومریض کے لیے روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے۔وَلَا یُرِیْدُ بِکُمُ الْعُسْرَ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے دین کے معاملے میں تم سے تنگی و پریشانی کو دُور کردیا ہے۔ایک قول یہ ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کو یہ بات بہت پسند ہے کہ جب کسی شخص کو دو چیزوں کا اختیار دیا جائے اور وہ ان میں سے آسان چیز کو اِختیار کرے۔ ‘‘ (1)
مُفَسِّرشہِیرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’ یُسْرکے معنی ہیں سہولت یاآسانی، اسی لیے مالداری کو یَسَار کہتے ہیں کہ اس میں آسانی ہوتی ہے، بائیں ہاتھ کو یُسریٰ کہا جاتا ہے کہ داہنا ہاتھ مددکرکے کام کو آسان کرتا ہے۔ جنت کا نام بھی یُسْرہے کہ وہاں ہر طرح کی آسانی ہے یعنی ربّ تم پر آسانی چاہتا ہے اس لیے اس نے بچوں ، دیوانوں پر روزہ معاف کردیا اور بیمارومسافر کو مہلت دے دی اور اسی لیے روزوں کے واسطے ماہ ِرمضان مقر رکیا تاکہ تمہیں حساب اور قضا میں آسانی ہو۔ وَلَا یُرِیْدُ بِکُمُ الْعُسْرَ، عُسْر، یُسْرکا مقابل ہے بمعنی ٰ دشواری اور سختی ۔یعنی تم پر سختی نہیں چاہتا، ورنہ روزے کسی اور مہینے میں فرض فرماتا۔ ‘‘ (2)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر:142
سب سے زیادہ پسندیدہ عبادت
وَعَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھَا اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَیْہَا وَعِنْدَہَا اِمْرَاَۃٌ قَالَ: مَنْ
________________________________
1 - تفسیر خازن،پ۲،البقرۃ ، تحت الآیۃ: ۱۸۵، ۱ / ۱۲۲۔
2 - تفسیرنعیمی،پ۲،البقرۃ،تحت الآیۃ : ۱۸۵، ۲ / ۲۰۶۔