عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کوعبادت میں بہت زیادہ کوشش کرتے دیکھا توکہا: اے محمد! (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) تم پر قرآن اس لیے اُتاراگیا ہے کہ تم مَشَقَّت میں پڑو۔ اس پر یہ آیت مباکہ نازل ہوئی۔ ‘‘ (1)
تفسیرِ کبیرمیں امام فخر الدین رازِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْھَادِیفرماتے ہیں : ’’ رسولِ کریم، رؤف ورحیم صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم ساری ساری رات اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عبادت کرتے یہاں تک کہ آپ کے قدمین شریفین میں ورم آجاتا۔اسی طرح یہ بھی مروی ہے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجب رات میں عبادت کے لیے کھڑے ہوتے تو اپنے سینہ مبارکہ پر رسّی باندھ لیتے اور سوتے نہ تھے۔ بعض نے کہا کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ایک ہی پاؤں مبارکہ پر کھڑے ہوکر عبادت کرتے تھے۔بعض نے کہا کہ ساری ساری رات جاگتے تھے۔ تو جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَامحکم اِلٰہی لے کر حاضر ہو ئے کہ اپنی جان پر رحم فرمائیے!آپ پرآپ کی جان کا بھی حق ہے یعنی ہم نے آپ پر یہ قرآن اِس لیے نہیں اتارا کہ بہت زیادہ عبادت کے ذریعے اپنی جان کو تکلیف اورمشقت میں ڈالیں بلکہ ہم نےآپ کونرمی اورآسانی کےلیےبھیجاہے۔ ‘‘ (2)
صدر الافاضل مولانا مفتی نعیم الدین مراد آبادیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی”تفسیرِخزائن العرفان“میں فرماتے ہیں : ’’ سیدِ عالَم صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمعبادت میں بہت جُہد (یعنی کوشش) فرماتے تھے اور تمام شب قیام میں گزارتے یہاں تک کہ قدم مبارک ورم کر آتے۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازِل ہوئی اور جبریل عَلَیْہِ السَّلَامنے حاضر ہو کر بحکم الٰہی عرض کیا کہ اپنے نفس پاک کو کچھ راحت دیجیے اس کا بھی حق ہے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ سیدِ عالَم صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم لوگوں کے کُفر اور ان کے ایمان سے محروم رہنے پر بہت زیادہ مُتَاَسِّف ومُتَحَسِّر (افسردہ) رہتے تھے اور خاطرِ مبارک پر اس سبب سے رنج و ملال رہا کرتا تھا ، اس آیت میں فرمایا گیا کہ آپ رنج و ملال کی کوفت نہ اٹھائیں ، قرآنِ پاک آپ کی مشقت کے لیے نازِل نہیں کیا گیا ہے۔ ‘‘ (3)
________________________________
1 - تفسیرخازن، پ۱۶،طہ، تحت الآیۃ: ۱، ۳ / ۲۴۸۔
2 - تفسیر کبیر، پ۱۶، طه، تحت الآیۃ: ۲، ۸ / ۶۔
3 - خزائن العرفان، پ۱۶، طہ، تحت الآیۃ: ۲۔