باب نمبر: 14
عِبَادَت میں مِیَانَہ رَوِی کابیا ن
تمام خوبیاں اُس خالق کائنات عَزَّ وَجَلَّکے لیے ہیں جس نے ہمیں اِنسان بنایااور سب سے بہترین اُمَّت میں پیدا فرمایا۔بے شمار درودوسلام ہوں نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پرجنہوں نے عبادات پر ہماری رہنمائی فرمائی، عبادات میں زیادتی کے مختلف طریقے بتائے، ساتھ ہی عبادات میں میانہ روی کا بھی درس عظیم دیا۔ اسلام میں دنیا سے اس طرح قطع تعلقی کرلینا یا رہبانیت اختیار کرلینا ممنوع ہے جس سے دیگر فرائض وواجبات وحقوق العباد کی ادائیگی میں دشواری ہو۔ عبادات میں میانہ روی میں فائدے ہی فائدے اور ڈھیروں بھلائیاں پوشیدہ ہیں ، میانہ روی سے کی جانے والی عبادات میں دل جمعی اور استقامت نصیب ہوتی ہے۔ اپنے اور متعلقین کے حقو ق کی ادائیگی میں سہولت رہتی ہےاور بندہ آسانی سے کامیابی کی منزلوں تک رسائی حاصل کرسکتا ہے۔ کیونکہ عبادات میں میانہ روی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نیک بندوں کا طریقہ اور اُن کی سنت ہے، اس کی پیروی میں عافیت وآسانی ہے۔اورمیانہ رویکے بارے میں ہمارے پیارے آقا مدینے والے مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے خوب ترغیب دلائی ہے۔ریاض الصالحین کایہ باب”عبادت میں میانہ روی“کے بارے میں ہے۔ عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے اس باب میں 2 آیات مقدسہ اور11احادیث مبارَکہ بیان کی ہیں ۔ اس باب میں ان آیات و احادیث مبارکہ کی تفسیر وتوضیح نیز میانہ روی کی اہمیت و فضیلت اور اس سے متعلق روایات و حکایات بیان کی جائیں گی۔ پہلے آیاتِ مبارکہ اور ان کی تفسیر ملاحظہ فرمائیے۔
(1) نزولِ قرآن باعث مشقت نہیں
فرما نِ باری تعالٰی ہے:
طٰهٰۚ (۱) مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْكَ الْقُرْاٰنَ لِتَشْقٰۤىۙ (۲) (پ۱۶، طہ: ۱۔ ۲) ترجمہ ٔ کنزالایمان: اے محبوب ہم نے تم پر یہ قرآن اس لیے نہ اُتارا کہ تم مشقت میں پڑو۔
عَلَّا مَہ عَلَاءُ الدِّیْن عَلِی بِنْ مُحَمَّد خَازِن رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ’’ جب مشرکین نے رحمتِ