السَّلَام کی خدمت میں عرض کی کہ ابھی تک ہمیں اس سے چھٹکارا نہیں ملا۔ آپ عَلَیْہِ السَّلَامنے اسےبلا کر فرمایا: ’’ اے نوجوان! آج تو نے کون سا نیک کام کیا ہے ؟ ‘‘ عرض کی : ’’ میں نے ایک روٹی صدقہ کی ہےاس کے علاوہ تو کوئی اورنیک کام مجھے یاد نہیں ۔ ‘‘ آپ عَلَیْہِ السَّلَامنے فرمایا: ’’ اپنالکڑیوں کا گٹھا کھولو۔ ‘‘ جب گٹھَّا کھولاتو اس میں کھجور کے تنے جتنا موٹا اوربہت ہی زہریلا سیاہ اژدہاتھا۔آپ عَلَیْہِ السَّلَامنے اس شخص سے فرمایا: ’’ صدقہ کی ہوئی روٹی نے تجھے اس خطرناک زہریلے اژدھے سے بچالیا۔ ‘‘ (1)
مدنی گلدستہ
’’ نیک عمل ‘‘ کے6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھول
(1) مُخَیَّرحضرات کو چاہیے کہ وہ مجبوروبے روزگارمسلمانوں کی دستگیری کریں تاکہ ان کے مسائل حل ہوں اور بھائی چارے کی فضا قائم ہو۔
(2) انسان پراتنامال کمانا ضروری ہے جس سے وہ اوراس کے اہل وعیال محتاجی سے بچے رہیں اور انہیں دوسروں کےسامنے ہاتھ نہ پھیلانا پڑے۔
(3) بعض نیکیاں آسانی سے ہوجاتی ہیں اوربعض میں دشواری کا سامنا ہوتا ہے ۔پس جب انسان مشکل اَعمال کرنے سے عاجز آجائے تو نیکیوں سے بالکل دُور ہونے کے بجائے آسان نیکیوں کی طرف منتقل ہوجائے ۔
(4) اسلام دینِ کامل ہےجو ہمیں خودداری اور خود کفالت کا درس دیتاہے۔
(5) کسی کی مدد کرنےکے لیے صرف مال ہی ضروری نہیں بلکہ اوربھی کئی طریقوں سے مدد کی جاسکتی ہے۔ جیسے کسی کو اچھا مشورہ دینا ، اچھی نصیحت کرنا ، جائز سفارش کرنا ، کسی کا کوئی کام کر دینا وغیرہ ۔
(6) بقدرِ ضرورت حلال مال مل جانا بھی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بہت بڑی نعمت ہے کیونکہ بسااوقات آدمی تنگ
________________________________
1 - عیون الحکایات، الحکایۃ الثالثۃ والخمسون بعدالثلاثمائۃ، ص۳۱۲۔