مراد بچنا ہے یعنی سلبِ عدولی نہ کہ سلبِ محض۔ لہٰذا حدیث پر یہ اِعتراض نہیں کہ ہم ہر وقت خصوصاً سونے کی حالت میں لاکھوں گناہوں سے بچے رہتے ہیں ، توچاہیے کہ ہمیں ہر سانس میں کروڑوں نیکیاں ملا کریں ، ربّ تعالٰی فرماتاہے: ( وَ اَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ وَ نَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوٰىۙ (۴۰) ) (پ۳۰، النٰزعٰت:۴۰) (ترجمہ ٔ کنزالایمان:وہ جو اپنے ربّ کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرا اور نفس کو خواہش سے روکا۔) یہ حدیث اس آیت کی تفسیر ہے۔ ‘‘ (1)
مصیبت زدہ کی مدد کرنا:
عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ’’ مصیبت زدہ کی مددکرے۔ اس سے مراد وہ شخص ہےجواپنےکسی معاملے میں رنجیدہ وپریشان ہو، یاکمزورومظلوم مدد مانگ رہاہوتوچاہیے کہ اپنے عمل، مال یا منصب کےذریعےاس کی مدد کرے یا اسے مددگارتک پہنچا دے یا نصیحت کر دے یا دعا کے ذریعےمددکرےاوراگریہ نہ کرسکےتوبھلائی کاحکم دےاوربرائی سے منع کرےیاکسی کوعلمی فائدہ پہنچا دے اور علمی نصیحت کردے۔ ‘‘ (2)
صَدَقہ کی برکت سے جان بچ گئی :
منقول ہےکہ حضرت سیِّدُنا صالح عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کا ایک جھگڑالوشخص لوگو ں کو بہت تنگ کیا کرتا تھا۔لوگوں نے تنگ آکر حضرت سیِّدُنا صالح عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامسے اس کی شکایت کی اور چھٹکارے کی درخواست کی۔ آپ عَلَیْہِ السَّلَامنے فرمایا: ’’ جاؤ! اِنْ شَآءَ اللہعَزَّ وَجَلَّ تمہیں اس کے شَر سے خلاصی مل جائے گی ۔ ‘‘ چنانچہ لوگ واپس چلے گئے۔ وہ جھگڑالوشخص جنگل سے لکڑیاں کاٹ کر فروخت کیا کرتا تھا۔حسب ِمعمول وہ جنگل گیا ، اس کے پاس دو روٹیاں تھیں ایک خود کھالی اور دوسری صدقہ کردی۔ پھر لکڑیاں کاٹ کر واپس گھر چلا آیا ۔ لوگو ں نے جب اسے صحیح وسلامت دیکھا تو حضرتِ سیِّدُنا صالح عَلَیْہِ
________________________________
1 - مرآۃالمناجیح،۳ / ۹۶۔
2 - مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الزکوۃ، باب فضل الصدقۃ، ۴ / ۳۹۷، تحت الحدیث: ۱۸۹۵۔