Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین(جلد :2)
410 - 662
 حاصل ہواپنی ضروریات کھانے، پینے، اُوڑھنے، پہننے وغیرہ میں استعمال کرے تاکہ  کسی سے مانگنےکی حاجت نہ رہےاوراپنےاوپرخرچ کرکے صدقے کا ثواب پائے۔ ‘‘  (1) 
بُرائی سے رُک جانا صدقہ ہے:
عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ برائی سے رُک جانا صدقہ ہے۔اس سے  مرادیہ ہے کہ جب اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی رضا کی خاطر برائی سے بچے تو اس کے ‏لیے ایسا ہی اجر ہے جیسا مال  صدقہ کرنے والے کے ‏لیے ہوتا ہے۔ ‘‘  (2) 
حلال و جائز کاموں میں مصروفیت:
مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان حدیثِ مذکور کی شرح میں فرماتے ہیں : ’’  (اگرصدقےکے ‏لیے کوئی چیز میسر نہ آئے تو؟ ) صحابۂ کرام یہاں صدقہ سے مالی خیرات سمجھے تھے،  اس ‏لیے اُنہیں یہ اِشکال پیش آیا کہ بعض مسلمان  مسکین مفلوکُ الْحال ہوتے ہیں جن کے پاس اپنے کھانے کونہیں ہوتاوہ صدقہ کہاں سے کریں ؟  (فرمایا:اپنے ہاتھ سے کام کرے پھر خودبھی فائدہ اٹھائے اورصدقہ بھی کرے) سرکار (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کے اس جواب سے معلوم ہورہا ہے کہ مال کمانا بھی عبادت ہے کہ اس کی برکت سے انسان ہزار ہا گناہوں سے بچ جاتا ہے۔جیسے بھیک،  چوری وغیرہ۔ نیز نِکمّا آدمی اپنا وقت گناہوں میں خرچ کرنے لگتا ہے۔نفس کو حلال کاموں میں لگائے رہوتاکہ تمہیں حرام میں نہ پھنسادے۔ (برائی سے بچے یہ بھی صدقہ ہے)  بُرائی سے بچنے کی دو صورتیں ہیں : ایک یہ کہ فساد کے زمانہ میں گھر میں گوشہ نشین بن جائے کہ نماز کے اوقات مسجد میں باقی گھر یا جنگل میں گزارے۔ دوسرے یہ کہ بُری مجلسوں میں جائے مگر بُرائی کرنے کے لیے نہیں بلکہ دوسروں کو بُرائی سے روکنے کے لیے کہ یہ بڑا جہاد ہے۔ اس جملے سے معلوم ہوا کہ جیسے نیکیاں نہ کرنا گناہ ہے،  ایسے ہی گناہ نہ کرنا ثواب۔ نہ کرنے سے 



________________________________
1 -   دلیل الفالحین ،باب فی بیان کثرۃ طرق الخیر،۱‏ / ۳۸۲،تحت الحدیث: ۱۴۱۔
2 -   شرح مسلم للنووی، کتاب الزکاۃ، باب ان اسم الصدقۃ یقع علی کل نوع من المعروف ، ۴‏ / ۹۴، الجزء  السابع۔